کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص اپنی باندی کو آزاد کردے تو کیا اس پر عدت واجب ہوگی؟
حدیث نمبر: 19856
١٩٨٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر في (الأمة) (١) التي توطأ: إذا بيعت أو وهبت أو أعتقت (فلتستبرأ) (٢) بحيضة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ باندی جس سے جماع کیا گیا ہو اگر اسے بیچ دیا جائے یا ہبہ میں دے دیا جائے یا آزاد کردیا جائے تو وہ ایک حیض عدت گزارے گی۔
حدیث نمبر: 19857
١٩٨٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن إدريس عن أبيه عن حماد عن إبراهيم في الأمة إذا أعتقت قال: عدتها ثلاث حيض.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب باندی کو آزاد کردیا جائے تو اس کی عدت تین حیض ہے۔
حدیث نمبر: 19858
١٩٨٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن حجاج عن الحكم عن علي في الأمة إذا أعتقت قال: تعتد (ثلاثة) (١) قروء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب باندی کو آزاد کردیا جائے تو اس کی عدت تین حیض ہے۔
حدیث نمبر: 19859
١٩٨٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا حاتم بن وردان عن برد عن مكحول قال: الأمة إذا أعتقت اعتدت بحيضتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب باندی کو آزاد کیا جائے تو وہ دو حیض عدت گزارے گی۔ حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ تین حیض عدت گزارے گی۔
حدیث نمبر: 19860
١٩٨٦٠ - وقال الزهري: (ثلاثة) (١) قروء.
حدیث نمبر: 19861
١٩٨٦١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عمر عن ابن جريج عن عطاء قال: تعتد ثلاث حيض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب باندی کو آزاد کردیا جائے تو اس کی عدت تین حیض ہے۔