کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو استحاضہ کی حالت میں طلاق دے تو وہ عدت کیسے گزارے گی؟
حدیث نمبر: 19793
١٩٧٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن أبي عدي عن يونس عن الحسن قال: المستحاضة تعتد بالأقراء.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مستحاضہ اقراء (طہر یا حیض) کے اعتبار سے عدت گذارے گی۔
حدیث نمبر: 19794
١٩٧٩٤ - [حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن روح بن القاسم عن عمرو ابن دينار عن جابر بن زيد قال: تعتد بالأقراء] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مستحاضہ اقراء (طہر یا حیض) کے اعتبار سے عدت گذارے گی۔
حدیث نمبر: 19795
١٩٧٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن (روح) (١) بن القاسم عن عمرو بن دينار قال طاوس: تعتد بالشهور.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مستحاضہ مہینوں کے اعتبار سے عدت گذارے گی۔
حدیث نمبر: 19796
١٩٧٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن سعيد عن أبي رجاء عن الحكم وعطاء أنهما قالا: المستحاضة تعتد بالأقراء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ اور حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مستحاضہ اقراء (طہر یا حیض) کے اعتبار سے عدت گذارے گی۔
حدیث نمبر: 19797
١٩٧٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد السلام بن حرب عن (سعيد عن) (١) (مطر) (٢) عن عطاء والحكم والحسن في المستحاضة قالوا: تعتد بأيام أقرائها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء ، حضرت حکم اور حسن s فرماتے ہیں کہ مستحاضہ اقراء (طہر یا حیض) کے اعتبار سے عدت گذارے گی۔
حدیث نمبر: 19798
١٩٧٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: تعتد بالأقراء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مستحاضہ اقراء (طہر یا حیض) کے اعتبار سے عدت گذارے گی۔
حدیث نمبر: 19799
١٩٧٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن (ميسر) (١) عن إبراهيم بن طهمان عن مغيرة عن إبراهيم قال: المستحاضة تعتد بالأقراء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مستحاضہ اقراء (طہر یا حیض) کے اعتبار سے عدت گذارے گی۔
حدیث نمبر: 19800
١٩٨٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير (بن) (١) عبد الحميد عن مغيرة عن حماد قال: إذا طلق الرجل المستحاضة، فحاضت (الثالثة) (٢) أدنى ما (كانت) (٣) تحيض فلا يملك زوجها الرجعة، ولا تغتسل ولا تصلي حتى يأتي عليها أكثر (ما) (٤) كانت تحيض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو استحاضہ کی حالت میں طلاق دے دے، اگر اسے تیسرا حیض ، حیض کی معمول کی مدت سے پہلے آجائے تو اس کا خاوند رجوع کا اختیار نہیں رکھتا، وہ غسل نہ کرے اور نہ نماز پڑھے یہاں تک کہ جتنے دن اسے حیض آتا ہے اس سے زیادہ دن گذر جائیں۔
حدیث نمبر: 19801
١٩٨٠١ - حدثنا أبو بكر قال: نا حماد بن خالد عن مالك عن الزهري عن سعيد ابن (المسيب) (١) قال: عدة المستحاضة سنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مستحاضہ کی عدت ایک سال ہے۔
حدیث نمبر: 19802
١٩٨٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد (١) عن قتادة عن عكرمة: أن (من) (٢) (ريبة) (٣) المستحاضة والتي لا تستقيم لها حيضة تحيض في ⦗٣٤٥⦘ (الشهر) (٤) مرتين وفي (الأشهر) (٥) مرة: عدتها ثلاثة أشهر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مستحاضہ اور وہ عورت جس کے حیض کی کوئی ترتیب نہ ہو (کبھی ایک مہینے میں دو مرتبہ آجائے اور کبھی کئی مہینوں میں ایک مرتبہ آئے) اس کی عدت تین ماہ ہے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 19803
١٩٨٠٣ - قال: (فكان) (١) قتادة ذلك رأيه.
حدیث نمبر: 19804
١٩٨٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن سعيد عن جعفر بن أبي (وحشية) (١) (٢) عن جابر بن زيد قال: تذاكر ابن عباس وابن عمر (امرأة) (٣) المفقود فقالا جميعًا: تربص أربع سنين، ثم يطلقها ولي زوجها، ثم تربص أربعة أشهر وعشرًا، ثم تذاكرا النفقه فقال ابن عمر: لها النفقة في ماله (لحبسها نفسها) (٤) في سببه، فقال ابن عباس: ليس كذلك، إذا (تجحف) (٥) بالورثة، ولكنها تأخذ عليه في ماله، فإن قدم فذلك (لها) (٦) عليه في ماله (وإلا) (٧) فلا شيء (لها) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے مابین اس عورت کے بارے میں گفتگو ہوئی جس کا خاوند گم ہوگیا ہو، دونوں حضرات نے فرمایا کہ وہ چار سال انتظار کرے گی پھر اس کے خاوند کا ولی اسے طلاق دے دے گا، پھر وہ چار مہینے اور دس دن تک عدت گذارے گی، پھر ان دونوں حضرات کے درمیان نفقہ کے بارے میں گفتگو ہوئی تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ عورت کو مرد کے مال میں سے نفقہ ملے گا کیونکہ اس کی وجہ سے عورت رکی رہی ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہے، اس طرح تو ورثہ کا نقصان ہوگا، البتہ عورت مرد کے مال میں سے لے گی اگر وہ آگیا تو وہ مال عورت کا ہوگا اور اگر وہ نہ آیا تو عورت کو کچھ نہیں ملے گا۔