کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر نفاس والی عورت کو طلاق دی جائے تو جن حضرات کے نزدیک وہ نفاس کو عدت میں شمار کرے گی
١٩٨٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن إدريس عن هشام عن قيس بن (سعد) (١) عن (بكير) (٢) بن عبد اللَّه بن الأشج عن (سليمان) (٣) (بن) (٤) يسار عن زيد بن ثابت قال: إذا طلقت النفساء لا تعتد بذلك الدم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نفاس والی عورت کو طلاق دی گئی تو وہ نفاس کو عدت میں شمار نہیں کرے گی۔
١٩٨٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن أشعث عن الحسن قال: سئل عن المرأة النفساء هل تعتد بالنفاس قال: لا تعتد بنفاسها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ اگر نفاس والی عورت کو طلاق دی گئی تو کیا وہ نفاس کو عدت میں شمار کرے گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ نفاس کو عدت میں شمار نہیں کرے گی۔
١٩٨٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن عطاء قال: إذا طلقت وهي نفساء لم تعتد (بنفاسها) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت کو حالت نفاس میں طلاق دی گئی تو وہ اسے عدت میں شمار نہیں کرے گی۔
١٩٨٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع قال (نا) (١) جرير (بن حازم) (٢) عن ⦗٣٤٧⦘ قيس ابن سعد عن (بكير) (٣) (بن) (٤) (عبد اللَّه) (٥) بن الأشج عن سليمان بن (يسار) (٦) عن زيد بن ثابت قال: إذا طلق الرجل امرأته وهي نفساء (لم) (٧) تعتد بدم (نفاسها) (٨) في (عدتها) (٩) (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت کو حالت نفاس میں طلاق دی گئی تو وہ اسے عدت میں شمار نہیں کرے گی۔