کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ایلاء کرے اور عورت عدتِ ایلاء کو گذارنے لگے تو جن حضرات کے نزدیک خاوند عدت میں اسے پیامِ نکاح دے سکتا ہے
حدیث نمبر: 19701
١٩٧٠١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد السلام بن حرب (عن) (١) علي بن بذيمة (٢) عن أبي عبيدة (٣) عن عبد اللَّه قال: لا يخطبها في عدتها غيره، فإذا انقضت عدتها كان هو (و) (٤) الناس سواء (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عدت میں ایلاء کرنے والے خاوند کے علاوہ کوئی اسے پیام نکاح نہیں دے سکتا اور جب عدت گذر جائے تو وہ اور دوسرے لوگ برابر ہیں۔
حدیث نمبر: 19702
١٩٧٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن (ومحمد) (١) (قالا) (٢): (يخطبها) (٣) هو: في عدتها، ولا يخطبها غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ اور محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ عدت میں پیام نکاح دے سکتا ہے اور کوئی نہیں دے سکتا۔
حدیث نمبر: 19703
١٩٧٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن ابن عون عن محمد (قال) (١): كانوا يقولون أو يتحدثون في الإيلاء: إذا مضت أربعة أشهر فهي تطليقة بائنة، ويخطبها في عدتها إن شاء.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسلاف ایلاء کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو ایک طلاق بائنہ ہوجائے گی اور وہ اس کی عدت میں چاہے تو اسے پیام نکاح دے سکتا ہے۔ حضرت ابن عون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد سے کہا کہ حضرت عامر رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ وہ عدت میں پیام نکاح دے سکتا ہے اس کے علاوہ کوئی نہیں دے سکتا، انہوں نے فرمایا کہ حضرت عامر رحمہ اللہ نے سچ کہا۔
حدیث نمبر: 19704
١٩٧٠٤ - قال ابن عون: فقلت لمحمد (إن) (١) عامرًا يقول: يخطبها في عدتها، ولا يخطبها غيره، قال: صدق عامر.
حدیث نمبر: 19705
١٩٧٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن مغيرة أنه (سمع) (١) الشعبي يحدث أنه سمع (مسروقًا) (٢) قال: إذا مضت أربعة أشهر فهي واحدة بائنة، ويخطبها زوجها في عدتها، (و) (٣) لا يخطبها غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو ایک طلاق بائنہ ہوجائے گی اور اس کا خاوند اس کی عدت میں اسے پیام نکاح دے سکتا ہے کوئی اور نہیں دے سکتا۔
حدیث نمبر: 19706
١٩٧٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا يعلي بن عبيد عن عبد الملك عن عطاء قال: لا تعتد من زوجها إذا أراد أن يتزوجها ولكن تعتد من الناس ثلاثة قروء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایلاء یافتہ عورت کا خاوند اگر اس سے شادی کرنا چاہے تو عدت گزارنے کی ضرورت نہیں اور اگر کوئی اور شادی کرنا چاہے تو تین حیض عدت کے گذارے گی۔