کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: اگر کوئی شخص بیوی سے ایلاء کرے، پھر عورت عدت گذارے اور وہ پھر اس کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے؟
❮
❯
١٩٦٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن قال: إذا انقضت عدة الإيلاء (فطلق) (١) فإنه لا يعده شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایلاء کی عدت گذرنے کے بعد عورت کو طلاق دی تو پہلے والی عدت کا کوئی شمار نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19697
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19697، ترقيم محمد عوامة 18961)
١٩٦٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا قال الرجل لامرأته وهي تعتد منه في الإيلاء أو طلاق: هي طالق (١) فإن ذلك جائز عليها، فإذا قال: أنت طالق بعد ما انقضت عدتها فليس بشيء، يطلق ما لا يملك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کی بیوی ایلاء یا طلاق کی عدت گذار رہی ہو اور عدت کے دوران آدمی اسے پھر طلاق دے دے تو طلاق درست ہے، اگر اس نے عدت گذرنے کے بعد طلاق دی تو اس طلاق کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19698
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19698، ترقيم محمد عوامة 18962)