کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک بغیر جماع کے ایلاء کی قسم ختم نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 19654
١٩٦٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن فضيل عن مطرف عن الشعبي عن ابن عباس قال: الفيء: الجماع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایلاء کی قسم کو ختم کرنے کا طریقہ جماع ہے۔
حدیث نمبر: 19655
١٩٦٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن شعبة عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس قال: عزيمة الطلاق انقضاء أربعة أشهر، والفيء الجماع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ طلاق کے عزم کا پختہ ہونا چار مہینوں کا گذرنا ہے اور ایلاء کی قسم کو ختم کرنے کا طریقہ جماع ہے۔
حدیث نمبر: 19656
١٩٦٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن الشعبي والحكم قالا: (الفيء) (١) الجماع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جماع کے بغیر ایلاء کی قسم ختم نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 19657
١٩٦٥٧ - [حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن إسماعيل (عن الشعبي) (١) (قال) (٢): لا فيء (إلا) (٣) الجماع] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جماع کے بغیر ایلاء کی قسم ختم نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 19658
١٩٦٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن الأعمش عن إبراهيم قال: لا فيء إلا الجماع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جماع کے بغیر ایلاء کی قسم ختم نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 19659
١٩٦٥٩ - [حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن إسماعيل عن الشعبي قال: ⦗٣١٥⦘ (الفيء) (١): الجماع] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایلاء کی قسم کو ختم کرنے کا طریقہ جماع ہے۔
حدیث نمبر: 19660
١٩٦٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن علي بن (بذيمة) (١) عن سعيد بن جبير قال: الفيء الجماع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایلاء کی قسم کو ختم کرنے کا طریقہ جماع ہے۔
حدیث نمبر: 19661
١٩٦٦١ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن محمد بن سالم عن الشعبي عن علي وابن مسعود وابن عباس قالوا: الفيء الجماع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی، حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما م فرماتے ہیں کہ ایلاء کی قسم کو ختم کرنے کا طریقہ جماع ہے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر اسے بڑھاپے کی وجہ سے کوئی عذر ہو، کوئی بیماری ہو، یا قید کی وجہ سے بیوی تک رسائی نہ رکھتا ہو تو زبان یا دل سے رجوع کرلینا بھی کافی ہے۔
حدیث نمبر: 19662
١٩٦٦٢ - وقال ابن مسعود: فإن كان به علة من (كبر) (١) (أو) (٢) مرض أو حبس (يحول) (٣) بينه وبين الجماع، (فإن) (٤) فيئه أن يفيء بقلبه ولسانه (٥).
حدیث نمبر: 19663
١٩٦٦٣ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): نا عبد السلام عن خصيف عن سعيد بن جبير أنه سأله عن رجل آلى من امرأته (٢): ينال منها ما ينال الرجل من امرأته إلا أن يجامعها (قال: إن) (٣) مضت أربعة أشهر قبل أن يجامعها فهي طالق بائن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ایلاء کرے اور اس کے بعد جماع کے علاوہ اپنی بیوی سے وہ سب کچھ کرلے جو ایک خاوند اپنی بیوی سے کرتا ہے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر جماع سے پہلے چار مہینے گذر گئے تو طلاق بائنہ ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 19664
١٩٦٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع (عن سفيان) (١) عن حصين عن الشعبي عن مسروق قال: الفيء الجماع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایلاء کی قسم کو ختم کرنے کا طریقہ جماع ہے۔