کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن حضرات کے نزدیک مہر سے زیادہ بدلِ خلع دینا درست ہے
حدیث نمبر: 19565
١٩٥٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عليه عن أيوب عن كثير مولى ابن سمرة أن عمر أتي بامرأة ناشز (فأمر) (١) بها إلى بيت كثير الزِّبْل (٢) ثلاثًا (فدعاها) (٣) فقال: كيف وجدت؟ (فقالت) (٤): ما وجدت راحة (مذ) (٥) كنت عنده إلا هذه الليالي التي (حُبستُها) (٦) قال: اخلعها، ولو من (قرطها) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس خاوند کی نافرمان ایک عورت لائی گئی، آپ نے اسے تین دن کے لئے بند کروا دیا، پھر اسے بلایا اور اس سے پوچھا کہ تم نے کیسا محسوس کیا ؟ اس نے کہا جب سے میری اس شخص سے شادی ہوئی ہے اس کے بعد سے لے کر اب تک مجھے صرف انہی دنوں میں راحت ملی ہے جن دنوں میں میں یہاں قید رہی ہوں، آپ نے اس کے خاوند سے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو خواہ اس کے کان کی ایک بالی کے بدلے ہی کیوں نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19565
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل منقطع، كثير لا يروي عن عمر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19565، ترقيم محمد عوامة 18843)
حدیث نمبر: 19566
١٩٥٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عفان بن مسلم قال: نا همام قال: نا مطر عن ثابت عن عبد اللَّه بن رباح أن عمر قال: اخلعها بما دون عقاصها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت سے خلع کرلو خواہ اس کے بال باندھنے والے کپڑے سے کم چیز کے عوض ہی کیوں نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19566
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19566، ترقيم محمد عوامة 18844)
حدیث نمبر: 19567
١٩٥٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر عن (عبيد اللَّه) (١) (عن) (٢) نافع أن مولاة لصفية بنت أبي عبيد اختلعت من زوجها بكل شيء لها حتى اختلعت ببعض (ثيابها) (٣) فبلغ ذلك ابن عمر فلم ينكره (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت صفیہ بنت ابی عبید کی ایک مولاہ خاتون نے اپنے خاوند سے اپنی تمام چیزوں حتیٰ کہ اپنے بعض کپڑوں کے بدلے خلع لی، اور جب یہ بات حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو معلوم ہوئی تو آپ نے اس سے منع نہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19567
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19567، ترقيم محمد عوامة 18845)
حدیث نمبر: 19568
١٩٥٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد عن حجاج عن عمرو (عن عكرمة) (١) عن ابن عباس قال: (تختلع) (٢) حتى بعقاصها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عورت مرد سے خلع لے سکتی ہے خواہ بال باندھنے کا کپڑا تک دینا پڑے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19568
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19568، ترقيم محمد عوامة 18846)
حدیث نمبر: 19569
١٩٥٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد عن حجاج عن بن أبي نجيح عن مجاهد مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19569
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19569، ترقيم محمد عوامة 18847)
حدیث نمبر: 19570
١٩٥٧٠ - [حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن شعبة عن الحكم عن إبراهيم قال: يأخذ منها حتى عقاصها] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خاوند خلع کے عوض عورت سے ہر چیز حتی کہ اس کے بال باندھنے کا کپڑا بھی لے سکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19570
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19570، ترقيم محمد عوامة 18848)
حدیث نمبر: 19571
١٩٥٧١ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن هاشم عن جويبر عن الضحاك (١) قال: لا بأس أن تختلع المرأة من زوجها، وإن كان أكثر مما أعطاها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی مہر سے زیادہ عوض لے کر بھی خلع کرے تو درست ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19571
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19571، ترقيم محمد عوامة 18849)