حدیث نمبر: 19501
١٩٥٠١ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن شعبة عن الحكم عن خيثمة قال: أتى (بشر) (١) بن مروان في خلع كان بين رجل و (امرأة) (٢) فلم (يجزه) (٣)، فقال له عبد اللَّه ابن (شهاب) (٤) الخولاني: شهدت عمر بن الخطاب أتي في خلع كان بين ⦗٢٨٠⦘ رجل وامرأته فأجازه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بشر بن مروان کے پاس میاں بیوی کے درمیان خلع کا ایک مسئلہ لایا گیا، بشر نے اس کی اجازت نہ دی، تو حضرت عبد اللہ بن شہاب خولانی رحمہ اللہ نے بشر سے کہا کہ میں حضرت عمر بن خطا ب رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا، ان کے پاس خلع کا ایک مسئلہ لایا گیا تو انہوں نے اس کی اجازت دے د ی تھی۔
حدیث نمبر: 19502
١٩٥٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن شعبة عن الحكم عن الشعبي أن شريحًا أجاز خلعا دون السلطان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ نے سلطان کی مداخلت کے بغیر خلع کی اجازت دی ہے۔
حدیث نمبر: 19503
١٩٥٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عليه عن أيوب عن نافع عن الربيع بنت معوذ (بن) (١) (عفراء) (٢) أن عمها (خلعها) (٣) من زوجها -وكان يشرب الخمر- دون عثمان فأجاز ذلك عثمان (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کے چچا نے انہیں ان کے خاوند سے خلع لے کردی، ان کا خاوند شراب پیا کرتا تھا، یہ خلع انہوں نے امیر المومنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مداخلت کے بغیر لی، لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے جائز قرار دیا۔
حدیث نمبر: 19504
١٩٥٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن هشام (عن) (١) ابن سيرين قال: الخلع جائز دون السلطان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلع سلطان کے بغیر بھی جائز ہے۔
حدیث نمبر: 19505
١٩٥٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أنه قال: الخلع جائز دون السلطان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلع سلطان کے بغیر بھی جائز ہے۔
حدیث نمبر: 19506
١٩٥٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا الثقفي عن يحيى بن (سعيد) (١) سمعه يقول: يختلعون عندنا دون السلطان، فإذا رفع إلى السلطان أجازه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ ہمارے پاس بغیر سلطان کے خلع کیا کرتے تھے، جب معاملہ سلطان کے پاس پیش ہوتا تو وہ بھی اس کی اجازت دے دیتے۔