حدیث نمبر: 19481
١٩٤٨١ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن عمرو عن طاوس عن (ابن) (١) عباس قال: إنما هو فرقه وفسخ، ليس بطلاق، ذكر اللَّه الطلاق في أول الآية وفي آخرها والخلع بين ذلك فليس بطلاق. . ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [البقرة: ٢٢٩] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ خلع صرف جدائی اور فسخِ نکاح ہے یہ طلاق نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے طلاق کا آیت کے شروع اور آخر میں تذکرہ فرمایا ہے درمیان میں خلع کا ذکر ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ ، أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } [البقرۃ ٢٢٩]