کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں ،پھر اس سے شادی کرلی تو اب اس کے پاس کتنی طلاقوں کا حق ہوگا؟
حدیث نمبر: 19397
١٩٣٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا سفيان بن عيينة عن الزهري عن عبيد اللَّه وسليمان بن يسار وحميد بن عبد الرحمن: سمعنا أبا هريرة يقول: سألت عمر عن ⦗٢٥٦⦘ رجل من أهل البحرين طلق امرأته تطليقة أو تطليقتين، فتزوجت ثم إن زوجها طلقها ثم إن الأول تزوجها، على كم هي عنده؟ قال: هي على ما بقي من الطلاق (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بحرین کے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دی تھیں، پھر اس عورت نے شادی کی اور اس کے دوسرے خاوند نے بھی اسے طلاق دے دی، پھر پہلے خاوند نے اس سے نکاح کیا تو اس کے پاس کتنی طلاقوں کا حق ہوگا، انہوں نے فرمایا کہ اس کے پاس باقی ماندہ طلاق کا حق ہوگا۔
حدیث نمبر: 19398
١٩٣٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن أشعث (و) (١) حجاج عن الحكم عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أبي (٢) قال: ترجع إليه بما بقي من الطلاق (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اب اس کے پاس باقی ماندہ طلاق کا حق رہے گا۔
حدیث نمبر: 19399
١٩٣٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عليه عن داود عن الشعبي أن زيادًا سأل عمران بن حصين وشريحًا عن الرجل يطلق امرأته تطليقة أو تطليقتين فتبين فيتزوجها رجل فيطلقها أو يموت عنها (فيتزوجها) (١) الأول، على كم تكون عنده؟ فقال عمران: على ما بقي من الطلاق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت زیاد رحمہ اللہ نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور حضرت شریح رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دیں، پھر وہ بائنہ ہوگئی اور پھر کسی آدمی نے اس سے شادی کرکے اسے طلاق دے دی یا وہ فوت ہوگیا، اور پھر پہلے آدمی نے اس سے شادی کرلی تو اس کے پاس کتنی طلاقوں کا حق باقی رہے گا ؟ حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ باقی ماندہ طلاقوں کا جبکہ حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا کہ نیا نکاح اور نئی طلاق ہے۔
حدیث نمبر: 19400
١٩٤٠٠ - وقال شريح نكاح: جديد وطلاق جديد.
حدیث نمبر: 19401
١٩٤٠١ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن حجاج عن عمرو بن شعيب قال: كان عمر وأبيُّ وأبو الدرداء ومعاذ يقولون: ترجع إليه على ما بقي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر، حضرت ابی، حضرت ابو درداء اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ م فرماتے ہیں کہ باقی ماندہ طلاقوں کا حق باقی رہے گا۔
حدیث نمبر: 19402
١٩٤٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع وعلي بن (هاشم) (١) عن ابن أبي ليلى عن (مزيدة) (٢) بن جابر عن أبيه عن علي قال: لا يهدم (الزوج) (٣) إلا الثلاث (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شادی کے رشتے کو تین طلاقیں ہی ختم کرتی ہیں۔
حدیث نمبر: 19403
١٩٤٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن الحكم عن (مزيدة) (١) بن جابر عن أبيه عن علي قال: على ما بقي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ باقی ماندہ طلاقوں کا حق ہوگا۔
حدیث نمبر: 19404
١٩٤٠٤ - [حدثنا أبو بكر قال: أخبرنا شعبة عن الحكم عن ابن أبي ليلى عن أبي قال: على ما بقي] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ باقی ماندہ طلاقوں کا حق ہوگا۔
حدیث نمبر: 19405
١٩٤٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن عمرو بن شعيب قال: قضى عمر ومعاذ وزيد وأبيُّ وعبد اللَّه بن عمر (أنها) (١) على ما بقي من الطلاق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر، حضرت معاذ، حضرت زید، حضرت ابی اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما م فرماتے ہیں کہ باقی ماندہ طلاقوں کا حق ہوگا۔
حدیث نمبر: 19406
١٩٤٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن سعيد عن أبي هريرة عن عمر قال: على ما بقي من الطلاق (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ باقی ماندہ طلاقوں کے ساتھ واپس آئے گی۔