کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی باندی کو آزاد ہونے کے بعد اختیار دیا جائے اور وہ اپنے نفس کو اختیار کرلے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19363
١٩٣٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا شريك عن مغيرة عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم، حضرت طاؤس اور حضرت عامر s فرماتے ہیں کہ اگر کوئی باندی کسی آزاد شخص کے نکاح میں ہو، اس باندی کو آزاد کیا جائے اور وہ اپنے نفس کو اختیار کرلے تو یہ بغیر طلاق کے فرقت ہوگی۔
حدیث نمبر: 19364
١٩٣٦٤ - وعن ليث عن طاوس.
حدیث نمبر: 19365
١٩٣٦٥ - وعن محمد بن سالم عن عامر قالوا: إذا كانت الأمة تحت الحر فأعتقت فاختارت (كانت) (١) فرقة بغير طلاق.
حدیث نمبر: 19366
١٩٣٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم [عن حماد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ اور ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی باندی کو آزاد کیا گیا پھر اسے اختیار دیا گیا اور اس نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو یہ بغیر طلاق کے فرقت ہوگی۔
حدیث نمبر: 19367
١٩٣٦٧ - وعن عبيدة عن] (١) إبراهيم (قالا) (٢): إذا أعتقت (فخيرت) (٣) فاختارت نفسها فهي فرقة بغير طلاق.
حدیث نمبر: 19368
١٩٣٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن يونس عن الحسن قال: هي تطليقة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ طلاق بائن ہے۔
حدیث نمبر: 19369
١٩٣٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن هشام عن محمد قال: إذا اختارت نفسها فهي تطليقة بائن.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اس نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو یہ طلاق بائن ہے۔