کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر مسلمان ہونے والی عورت کا خاوند اس کی عد ت میں اسلام قبول کرلے تو جن حضرات کے نزدیک وہ رجوع کا زیادہ حقدار ہے
حدیث نمبر: 19329
١٩٣٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد السلام بن حرب عن إسحاق بن عبد اللَّه بن أبي فروة عن الزهري (أن) (١) امرأة عكرمة بن أبي جهل أسلمت (قبله) (٢) ثم أسلم وهي في العدهّ فردت إليه وذلك على عهد النبي ﷺ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ بن ابی جہل کی بیوی نے ان سے پہلے اسلام قبول کرلیا، پھر ان کی عدت میں حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسلام قبول کرلیا تو وہ واپس ان کے نکاح میں چلی گئیں اور ایسا حضور ﷺ کے عہد مبارک میں ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 19330
١٩٣٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة (عن) (١) مجاهد قال: إذا أسلم وهي في عدتها فهي امرأته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر نومسلم عورت کا خاوند اس کی عدت میں اسلام قبول کرلے تو وہ اسی کی بیوی رہے گی۔
حدیث نمبر: 19331
١٩٣٣١ - [حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن ابن أبي نجيح عن عطاء قال: إن أسلم -وهي في العدة- فهو أحق بها] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر نومسلم عورت کا خاوند اس کی عدت میں اسلام قبول کرلے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔
حدیث نمبر: 19332
١٩٣٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا (عبيد اللَّه) (١) عن سفيان عن عمرو بن ميمون عن عمر بن عبد العزيز قال: هو أحق بها (ما دامت) (٢) في العدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر نومسلم عورت کا خاوند اس کی عدت میں اسلام قبول کرلے تو وہ اسی کی بیوی رہے گی۔
حدیث نمبر: 19333
١٩٣٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن حجاج عن عطاء قال: إذا أسلم -وهي في العدة- فهي امرأته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر نومسلم عورت کا خاوند اس کی عدت میں اسلام قبول کرلے تو وہ اسی کی بیوی رہے گی۔
حدیث نمبر: 19334
١٩٣٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن يونس (قال: حدثنا عن) (١) عمر بن عبد العزيز قال: إذا أسلم الزوج بعد امرأته خيرها ما دامت في العدة (أو) (٢) قال: هو أحق بها ما دامت في العدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے بعد اسلام قبول کرے تو عدت کے دوران عورت کو اختیار ہوگا، یا یہ فرمایا کہ عورت کی عدت میں اسلام قبول کرنے کی صورت میں وہ زیادہ حق دار ہوگا۔
حدیث نمبر: 19335
١٩٣٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا معتمر بن (سليمان) (١) عن معمر عن الزهري قال: أيما يهودي أو نصراني أسلم ثم أسلمت امرأته فهما على نكاحهما إلا أن يكون فرق بينهما سلطان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی یہودی یا عیسائی نے اسلام قبول کیا پھر اس کی بیوی نے اسلام قبول کیا تو ان کا عقد باقی رہے گا البتہ اگر سلطان نے ان کے درمیان جدائی کرادی ہو تو پھر عقد ختم ہوگیا۔