کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص اپنے غلام کی اپنی باندی سے شادی کرائے پھر باندی کو بیچ دے تو جن حضرات کے نزدیک اسے بیچنا طلاق کے مترادف ہے
حدیث نمبر: 19263
١٩٢٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية وأبو أسامة عن الأعمش (عن إبراهيم) (١) قال: قال عبد اللَّه: (بيع) (٢) الأمة طلاقها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ باندی کو بیچنا اس کی طلاق ہے۔
حدیث نمبر: 19264
١٩٢٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن أشعث عن الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ باندی کو بیچنا اس کی طلاق ہے۔
حدیث نمبر: 19265
١٩٢٦٥ - وعن سعيد عن قتادة عن الحسن عن (أبي) (١) قال: (بيع) (٢) الأمة طلاقها (٣).
حدیث نمبر: 19266
١٩٢٦٦ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن سعيد عن قتادة عن ابن عباس وجابر وأنس قالوا: بيع الأمة طلاقها] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت جابر اور حضرت انس رضی اللہ عنہ م فرماتے ہیں کہ باندی کو بیچنا اس کی طلاق ہے۔
حدیث نمبر: 19267
١٩٢٦٧ - [حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن الحسن قال: أيهما بيع فذلك لها طلاق] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام اور باندی میں سے جو بھی بیچا گیا تو یہ ان کی طلاق کی مانند ہے۔
حدیث نمبر: 19268
١٩٢٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة عن سعيد عن يعلى بن حكيم عن عكرمة قال: أيهما بيع فذلك لها طلاق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام اور باندی میں سے جو بھی بیچا گیا تو یہ ان کی طلاق کی مانند ہے۔
حدیث نمبر: 19269
١٩٢٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن ليث عن الحكم عن عبد اللَّه قال: (بضعها) (١) في بيع أيهما كان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غلام اور باندی میں سے جو بھی بیچا گیا تو یہ ان کی طلاق کی مانند ہے۔
حدیث نمبر: 19270
١٩٢٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن (عوف) (١) عن الحسن قال: بيعه طلاقها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام کو بیچنا اس کی طلاق ہے۔
حدیث نمبر: 19271
١٩٢٧١ - حدثنا أبو بكر قال: نا يعلى عن إسماعيل قال: سألت عامرًا عن رجل اشترى وليدة ولها زوج أيقع (عليها) (١) قال: إن (وقع) (٢) عليها لم (يعب) (٣) ذلك أحد قال: وإن يتنزه خير له.
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عامر رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص خاوند والی باندی کو خریدے تو کیا اس سے جماع کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ جماع کرلے تو کوئی تبدیلی نہیں آئے گی لیکن اس کا ایسی باندی سے دور رہنابہتر ہے۔
حدیث نمبر: 19272
١٩٢٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: إذا بيعت الأمة (أو وهبت) (١) أو ورثت (أو) (٢) أعتقت فهو فراق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر باندی کو بیچا گیا، ہبہ کیا گیا، کوئی اس کا وارث بن گیا یا اسے آزاد کیا گیا تو یہ خاوند سے اس کی جدائی ہے۔