کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19178
١٩١٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا حاتم بن إسماعيل (عن) (١) جعفر عن أبيه عن علي قال: إذا قال الرجل لامرأته: أنت عليّ حرام فهي ثلاث (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو یہ تین طلاقوں کے قائم مقام ہے۔
حدیث نمبر: 19179
١٩١٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن الحسن عن علي قال: ثلاث (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو یہ تین طلاقوں کے قائم مقام ہے۔
حدیث نمبر: 19180
١٩١٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا شريك عن (مُخوَّل) (١) عن عامر عن عبد اللَّه قال: الحرام إن نوى طلاقًا فهي واحدة وهو أملك برجعتها وإن لم ينو طلاقًا فهي يمين يكفرها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو یہ ایک طلاق ہے اور وہ آدمی رجوع کا زیادہ حق دار ہے، اور اگر اس نے طلاق کی نیت نہ کی تو یہ قسم ہے جس کا کفارہ دے گا۔
حدیث نمبر: 19181
١٩١٨١ - حدثنا أبو بكر قال: نا (شريك) (١) عن (مخول) (٢) عن أبي جعفر مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوجعفر رحمہ اللہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 19182
١٩١٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن أشعث عن الحكم عن إبراهيم عن عبد اللَّه في الحرام إن (نوى) (١) يمينًا فيمين وإن نوى طلاقًا فما نوى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تواگرقسم کی نیت کی تو قسم ہے اور اگر طلاق کی نیت کی تو طلاق ہے۔
حدیث نمبر: 19183
١٩١٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن عبد الخالق عن حماد قال: الحرام بائنة واحدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے۔
حدیث نمبر: 19184
١٩١٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن الأعمش عن إبراهيم قال: إذا قال الرجل لامرأته: هي عليه حرام، -ينوي الطلاق- فأدنى ما يكون تطليقة بائنة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے اور طلاق کی نیت کی تو ایک طلاق بائنہ ہوگی۔
حدیث نمبر: 19185
١٩١٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: إن نوى طلاقًا فأدنى ما يكون (من) (١) نيته في ذلك (واحدة بائنة) (٢)؛ إن شاء وشاءت تزوجها، وإن نوى ثلاثًا (فثلاث) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے اور طلاق کی نیت کی تو ایک طلاق بائنہ ہوگی، اگر وہ دونوں چاہیں تو آدمی اس سے نکاح کرلے اور اگر تین کی نیت کی تو تین طلاقیں ہوجائیں گی۔
حدیث نمبر: 19186
١٩١٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الوهاب عن سعيد عن (مطر) (١) عن حميد ابن (هلال) (٢) عن (سعد) (٣) بن هشام أن زيد بن ثابت قال: هي ثلاث، لا تحل له حتى تنكح زوجًا غيره (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو تین طلاقیں ہوجائیں گی اور عورت اس مرد کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شخص سے شادی نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 19187
١٩١٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة (عن) (١) زيد بن ثابت أنه كان يقول: في الحرام: ثلاث (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو تین طلاقیں ہوجائیں گی۔