حدیث نمبر: 19145
١٩١٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن فضيل عن الأعمش عن إبراهيم عن عمر وعبد اللَّه قالا في الخلية: تطليقة وهو أملك برجعتها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ ما فرماتے ہیں کہ عورت کو تخلیہ کا کہنا ایک طلاق ہے اور آدمی کو رجوع کا حق ہوگا۔
حدیث نمبر: 19146
١٩١٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا شريك عن جابر عن (كردوس) (١) عن أبيه (عن) (٢) عبد اللَّه في الخلية قال: (نيته) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت کو تخلیہ کا کہنے میں مرد کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
حدیث نمبر: 19147
١٩١٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن الحسن عن علي قال: هي ثلاث (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت کو تخلیہ کا کہناتین طلاقیں ہیں۔
حدیث نمبر: 19148
١٩١٤٨ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر قال: هي ثلاث] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت کو تخلیہ کا کہناتین طلاقیں ہیں۔
حدیث نمبر: 19149
١٩١٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الصمد (بن) (١) عبد الوارث عن وهيب عن (ابن) (٢) طاوس عن أبيه قال: الخلية ما نوى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت کو تخلیہ کا کہنے میں نیت کا اعتبار ہوگا۔
حدیث نمبر: 19150
١٩١٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن منصور عن إبراهيم في الخلية: إن نوى طلاقًا فأدنى ما يكون تطليقة بائن، إن شاء وشاءت تزوجها، وإن نوى ثلاثًا فثلاث.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو تخلیہ کا کہا اور طلاق کی نیت کی تو کم از کم ایک طلاق واقع ہوگی اور اگر چاہیں تو نکاح کرلیں اور اگر تین کی نیت کی تو تین طلاقیں ہوجائیں گی۔