کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاق کا اختیار دے اور وہ ایک کو استعمال کرلے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19116
١٩١١٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن جابر عن عامر عن مسروق عن عبد اللَّه قال: إذا خيّرها ثلاثًا فاختارت نفسها مرة فهي ثلاث (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاق کا اختیار دے دیا اور عورت نے خود کو ایک مرتبہ اختیار کیا تو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔
حدیث نمبر: 19117
١٩١١٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو الأحوص عن مغيرة عن الشعبي في رجل خيّر امرأته ثلاث (مرار) (١) فاختارت نفسها مرة واحدة قال: بانت منه بثلاث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاق کا اختیار دیا اور عورت نے خود کو ایک مرتبہ اختیار کیا تو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔
حدیث نمبر: 19118
١٩١١٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن نمير عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي قال: سئل عن رجل قال لامرأته: اختاري نفسك (فسكتت) (١) ثم قال: ⦗١٩٢⦘ اختاري فسكتت ثم قال: اختاري، فاختارت نفسها عند الثالثة فأبانها منه فجعلها ثلاثًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی نے عورت سے کہا تجھے اختیار ہے، وہ خاموش رہی، پھر کہاتجھے اختیار ہے وہ پھر خاموش رہی، پھر کہا تجھے اختیار ہے ، اب اس نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ عورت بائنہ ہوجائے گی اور یہ تین طلاقیں ہوں گی۔
حدیث نمبر: 19119
١٩١١٩ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثت) (١) عن جرير عن مغيرة عن حماد عن إبراهيم قال: إذا خيرها ثلاثًا فاختارت مرة فهي ثلاث.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاق کا اختیار دیا اور عورت نے خود کو ایک مرتبہ اختیار کیا تو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔