کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص بیوی کو اختیار دے تو کیا بیوی کے اختیار کو استعمال کرنے سے پہلے اختیار واپس لے سکتاہے؟
١٩١١٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن زكريا عن الشعبي في رجل خير امرأته قال: له أن يرجع ما لم (تتكلم) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے تو اس کے بولنے سے پہلے اختیار واپس لے سکتا ہے۔
١٩١١٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عمر عن ابن جريج عن (عمرو) (١) بن دينار (عن جابر بن زيد) (٢) قال: له ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے تو اس کے بولنے سے پہلے اختیار واپس لے سکتا ہے۔
١٩١١٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا عمر عن ابن جريج عن عطاء في (الرجل) (١) يخيّر امرأته أو يجعل أمرها بيدها ثم (يرد) (٢) ذلك من قبل أن تقول شيئا قال: له ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے تو اس کے بولنے سے پہلے اختیار واپس لے سکتا ہے۔
١٩١١٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو داود عن جرير بن حازم عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: قال ابن مسعود: إذا خيّر الرجل امرأته فقامت من مجلسها فلا أمر لها، فإن ارتجع فيها قبل أن تختار فلا شيء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے اور وہ عورت مجلس سے اٹھ جائے تو عورت کا اختیار ختم ہوگیا اور اگر مرد عورت کے اختیار کو استعمال کرنے سے پہلے رجوع کرلے تو کوئی چیز لازم نہ ہوگی۔