کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو حضرات مجبور کئے گئے شخص کی طلاق کو درست سمجھتے تھے
حدیث نمبر: 19019
١٩٠١٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن سيار قال: قلت للشعبي: إنهم يزعمون أنك لا ترى طلاق المكره شيئًا، قال: إنهم يكذبون عليّ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سیار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی رحمہ اللہ سے کہا کہ لوگ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ مجبور کئے گئے شخص کی طلاق کو درست نہیں سمجھتے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ مجھ پر جھوٹ گھڑتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19019
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19019، ترقيم محمد عوامة 18343)
حدیث نمبر: 19020
١٩٠٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن (مغيرة) (١) عن إبراهيم قال: طلاق المكره جائز.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجبور کئے گئے شخص کی طلاق ہوجاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19020
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19020، ترقيم محمد عوامة 18344)
حدیث نمبر: 19021
١٩٠٢١ - حدثنا أبو بكر قال: نا (هشيم) (١) عن الأعمش عن إبراهيم قال: هو جائز، إنما هو شيء (افتدى) (٢) به نفسه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجبور کئے گئے شخص کی طلاق ہوجاتی ہے۔ یہ اس نے اپنی جان کا فدیہ دیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19021
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19021، ترقيم محمد عوامة 18345)
حدیث نمبر: 19022
١٩٠٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن سعيد بن المسيب أنه كان يجيز طلاق المكره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجبور کئے گئے شخص کی طلاق ہوجاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19022
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19022، ترقيم محمد عوامة 18346)
حدیث نمبر: 19023
١٩٠٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن المبارك عن رجل قد سماه عن ابن سيرين عن شريح قال: طلاق المكره جائز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجبور کئے گئے شخص کی طلاق ہوجاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19023
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19023، ترقيم محمد عوامة 18347)
حدیث نمبر: 19024
١٩٠٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا حسين بن محمد عن جرير بن حازم عن (أيوب) (١) عن أبي قلابة قال: طلاق المكره جائز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجبور کئے گئے شخص کی طلاق ہوجاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19024
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19024، ترقيم محمد عوامة 18348)
حدیث نمبر: 19025
١٩٠٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص (بن) (١) غياث عن ليث عن حماد عن إبراهيم قال: لو وضع السيف على مفرقه ثم طلق لأجزت طلاقه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کے سر پر تلوار رکھی جائے اور پھر وہ طلاق دے دے تو میں اس طلاق کو واقع قرار دے دوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19025
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19025، ترقيم محمد عوامة 18349)
حدیث نمبر: 19026
١٩٠٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن (حصين) (١) عن الشعبي في ⦗١٧٠⦘ الرجل يُكره على أمر من أمر (العتاق) (٢) (أو) (٣) الطلاق، قال: إذا (أكرهه) (٤) السلطان جاز، وإذا (أكرهه) (٥) اللصوص لم يجز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی کو طلاق یا عتاق پر مجبور کیا گیا تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر سلطان نے مجبور کیا تو درست ہے اور اگر چوروں نے مجبور کیا تو درست نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19026
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19026، ترقيم محمد عوامة 18350)