کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کوئی شخص اپنے ہاتھ سے اپنی بیوی کی طلاق لکھے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18967
١٨٩٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا كتب الطلاق بيده وجب عليه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے اپنے ہاتھ سے اپنی بیوی کی طلاق لکھی تو یہ واقع ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 18967
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18967، ترقيم محمد عوامة 18300)
حدیث نمبر: 18968
١٨٩٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن علي بن الحكم (البناني) (١) قال: حدثني رجل أن رجلًا كتب طلاق امرأته بيده على وسادة فسئل عن ذلك الشعبي فرآه طلاقًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حکم بنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے ہاتھ سے تکیے پر اپنی بیوی کے لئے طلاق لکھی۔ اس بارے میں حضرت شعبی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے اسے طلاق قرار دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 18968
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18968، ترقيم محمد عوامة 18301)
حدیث نمبر: 18969
١٨٩٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن نمير عن عبد الملك عن عطاء أنه سئل عن رجل أنه كتب (طلاق) (١) امرأته ثم ندم فأمسك الكتاب، قال: إن أمسك فليس بشيء، وإن أمضاه فهو طلاق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو طلاق لکھی، پھر نادم ہوا اور خط کو روک لیا تو طلاق ہوگی یا نہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر روک لیا تو طلاق نہیں ہوگی اور اگر جانے دیا تو طلاق ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 18969
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18969، ترقيم محمد عوامة 18302)
حدیث نمبر: 18970
١٨٩٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن في الرجل يكتب إلى امرأته بطلاقها ثم يبدو له أن يمسك الكتاب، قال: ليس بشيء ما لم يتكلم وإن بعث إليها اعتدت من يوم يأتيها الكتاب.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کے نام طلاق لکھی، پھر اسے خیال آیا کہ اس خط کو روک دے، تو اگر وہ تکلم نہ کرے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں، اگر خط بیوی کی طرح بھیج دیا تو جس دن سے خط اسے ملے اسی دن سے وہ عورت عدت شمار کرے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 18970
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18970، ترقيم محمد عوامة 18303)
حدیث نمبر: 18971
١٨٩٧١ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن عبد (الخالق) (١) عن حماد (قال) (٢): إذا كتب الرجل إلى امرأته: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق، فإن لم يأتها الكتاب فليس (هي) (٣) بطالق، (فإن) (٤) كتب: أما بعد فأنت طالق (فهي طالق) (٥) قال ابن شبرمة (٦): (فهي) (٧) طالق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو خط لکھا اور اس میں تحریر کیا کہ جب میرا یہ خط تمہارے پاس آئے تو تمہیں طلاق ہے، اگر خط اس کے پاس نہ پہنچا توطلاق نہ ہوگی، اور اگر خط میں لکھا : اما بعد ! تمہیں طلاق ہے۔ تو اگر خط نہ بھی پہنچے تو طلاق ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 18971
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18971، ترقيم محمد عوامة 18304)