کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تیرا راستہ چھوڑ دیا یا مجھے تجھ پر کوئی حق نہیں تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18961
١٨٩٦١ - حدثنا أبو بكر قال: نا حميد بن عبد الرحمن عن حسن بن صالح عن مطرف عن الحكم في رجل قال لامرأته: قد خليت سبيلك قال: نيته، قال: أرأيت إن نوى ثلاثًا! قال: أخاف أن يكون ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تیرا راستہ چھوڑ دیا تو اس کی نیت کا اعتبار ہوگا۔ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس نے تین کی نیت کی ہو ! انہوں نے کہا کہ مجھے خوف ہے کہ ایسا ہی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 18961
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18961، ترقيم محمد عوامة 18296)
حدیث نمبر: 18962
١٨٩٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن حجاج عن فضيل عن إبراهيم قال: إذا قال: لا سبيل لي عليك، فهي تطليقة بائنة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ میرا تجھ پر کوئی حق نہیں تو ایک طلاق بائنہ پڑجائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 18962
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18962، ترقيم محمد عوامة 18297)
حدیث نمبر: 18963
١٨٩٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مهدي عن إسرائيل عن جابر عن عامر مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 18963
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18963، ترقيم محمد عوامة 18298)