کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18955
١٨٩٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن إسماعيل (عن) (١) إبراهيم في الرجل يقول لامرأته: لا حاجة لي فيك، قال: نيته.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں تو اس کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
حدیث نمبر: 18956
١٨٩٥٦ - حدثنا (أبو بكر) (١) قال: نا (إسماعيل بن عياش) (٢) عن (عبيد اللَّه) (٣) ابن عبيد عن مكحول في رجل قال لامرأته: لا حاجة لي فيك، قال مكحول: ليس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں تو اس کا کوئی اعتبار نہیں۔
حدیث نمبر: 18957
١٨٩٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن (شعبة) (١) قال: سألت الحكم ⦗١٥٥⦘ وحمادًا عن رجل قال لامرأته: اذهبي حيث شئت لا حاجة لي فيك، (قالا) (٢): إن نوى طلاقا فواحدة، وهو أحق بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم رحمہ اللہ اور حضرت حماد رحمہ اللہ سے پوچھا کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر طلاق کی نیت کی تھی تو ایک طلاق واقع ہوجائے گی اور وہ اس سے رجوع کرنے کا زیادہ حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 18958
١٨٩٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص (عن عمرو) (١) عن الحسن: في رجل قال لامرأته: اخرجي، استتري، اذهبي، لا حاجة لي فيك، فهي تطليقة إن نوى الطلاق.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ نکل جا، پردہ کرلے ، چلی جا، مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں تو ایک طلاق پڑے گی اگر طلاق کی نیت کی ہو۔
حدیث نمبر: 18959
١٨٩٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو داود الطيالسي عن هشام عن مطر عن عكرمة في رجل قال لامرأته: الحقي بأهلك، قال: (هذه واحدة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا تو ایک طلاق پڑجائے گی۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اس بات کو کچھ نہیں سمجھتا۔
حدیث نمبر: 18960
١٨٩٦٠ - فقال (١) قتادة: ما (أعد) (٢) هذا شيئًا.