کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: برسم نامی بیماری کے شکار اورالٹی سیدھی باتیں کرنے والے کی طلاق کا حکم
حدیث نمبر: 18911
١٨٩١١ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن يونس قال: حدثني رجل من أهل الشَّام لم أر به بأسًا قال: كنا في غزاة فبرسم صاحب لنا فطلق امرأته ⦗١٤٥⦘ ثلاثًا فلما أفاق قالوا له: (قلت) (١): كذا وكذا، قال: ما أعلمني قلت من هذا قليلا ولا كثيرا (ولا) (٢) أعرفه، (فركب) (٣) رجل (منا) (٤) إلى عمر بن عبد العزيز في حاجة فلما قضى حاجته سأله عن ذلك فدينه.
مولانا محمد اویس سرور
یونس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شامی شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ ہم ایک غزوہ میں تھے، کہ ہمارے ایک ساتھی کو الٹی سیدھی باتیں کرنے والی بیماری ہوگئی، اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔ جب اسے افاقہ ہوا تو لوگوں نے اس سے کہا کہ تو نے یہ یہ بات کی تھی، اس نے کہا کہ مجھے تو کوئی علم نہیں کہ میں نے اس طرح کی کوئی تھوڑی یا زیادہ بات کی ہو اور میں نہیں جانتا۔ ہم میں سے ایک سوار کسی ضرورت کے لئے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے پاس گیا جب اس نے ضرورت پوری کرلی تو اس بارے میں سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔
حدیث نمبر: 18912
١٨٩١٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن يونس عن ميمون بن مهران عن عمر بن عبد العزيز بنحو حديث ابن علية عن يونس.
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 18913
١٨٩١٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا (أبو معاوية عن حجاج) (١) عن الحكم قال: كان يقول: طلاق المبرسم والمحموم الذي يهذي، ونكاح (المجنون) (٢) ليس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ برسم نامی بیماری کے شکار جو الٹی سیدھی باتیں کرتا ہو، اور بخار زدہ جو الٹی سیدھی باتیں کرتا ہو ان دونوں کی طلاق اور مجنون کا نکاح معتبر نہیں۔
حدیث نمبر: 18914
١٨٩١٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن جويبر عن الضحاك قالا: لا يجوز طلاق المبرسم، والمغلوب على عقله في مرضه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ برسم کا شکار اور مغلوب العقل کی طلاق ان کے مرض میں درست نہیں۔
حدیث نمبر: 18915
١٨٩١٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن حبيب عن عمرو بن (هرم) (١) عن جابر بن زيد في طلاق المبرسم الذي (٢) يهذي ولا يعقل ما يقول، قال: لا طلاق له، ولا عتاق ما دام على ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ برسم کے شکار شخص جو الٹی سیدھی باتیں کرتا ہو اور اسے اپنی باتوں کی سمجھ نہ ہو تو اس کی طلاق اور آزاد کرنے کا اعتبار نہیں۔
حدیث نمبر: 18916
١٨٩١٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن جابر عن عامر.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ برسم کا شکار شخص کی طلاق معتبر نہیں۔
حدیث نمبر: 18917
١٨٩١٧ - وعن شريك عن مغيرة عن إبراهيم (قالا) (١): لا يجوز طلاق المبرسم.
حدیث نمبر: 18918
١٨٩١٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا الفضل بن دكين عن زهير عن مغيرة عن إبراهيم (قال) (١): لا يجوز طلاق المبرسم أو من نزل به بلاء (من) (٢) غير (نشوة) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ برسم کا شکار شخص کی طلاق معتبر نہیں، نیز وہ شخص جس پر نشے کے علاوہ کوئی آفت آئے اور اس کی عقل کو خراب کردے۔
حدیث نمبر: 18919
١٨٩١٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن حماد بن زيد عن أيوب قال: كتبت إلى (أبي) (١) قلابة أسأله عن طلاق المبرسم فكتب إلى أنه ما شهدت به الشهود، إن كان يعقل فطلاقه جائز، وإن كان لا يعقل فطلاقه لا يجوز.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ کو خط لکھا اور ان سے برسم کے شکار شخص کی طلاق کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے مجھے خط میں لکھا کہ اس میں گواہوں کی گواہی کا اعتبار ہوگا، اگر تو اسے سمجھ ہے تو اسکی طلاق جائز ہے اور اگر اسے سمجھ نہیں تو اس کی طلاق جائز نہیں ہے۔