کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دے تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18807
١٨٨٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن مطرف عن الحكم عن ابن عباس وابن مسعود قالا في رجل طلق امرأته ثلاثًا قبل أن يدخل بها: لا تحل له حتى تنكح زوجًا غيره (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ م فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دے تو وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کس دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 18808
١٨٨٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه عن علي قال: إذا طلق البكر واحدة فقد (بتها) (١)، وإذا طلقها ثلاثًا لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے باکرہ کو ایک طلاق دی تو وہ بائنہ ہوجائے گی اور اگر وہ اسے دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دے تو وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کس دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 18809
١٨٨٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن يحيى بن سعيد عن (بكير) (١) (بن) (٢) عبد اللَّه بن الأشج عن عطاء بن يسار قال: كنت جالسًا عند عبد اللَّه بن عمرو (فسأله) (٣) رجل (عن رجل) (٤) طلق امرأته بكرًا ثلاثًا قال عطاء: ⦗١٢١⦘ فقلت: ثلاث (٥) البكر واحدة وقال عبد اللَّه بن عمرو: ما يدريك؟ إنما أنت (قاص) (٦) (ولست) (٧) (بمفت) (٨)، الواحدة (تبينها) (٩) والثلاث تحرمها، حتى تنكح زوجا غيره (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا تھا ان سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی باکرہ بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ باکرہ کو تین کا کیا مطلب، اس کے لئے تو ایک ہی کافی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ تمہیں کیا معلوم، تم قاضی ہو مفتی نہیں، ایک طلاق اسے بائنہ بنادے گی اور تین طلاقیں اسے حرام کردیں گی یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شخص سے شادی کرے۔
حدیث نمبر: 18810
١٨٨١٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة عن يحيى بن سعيد عن (بكير) (١) بن عبد اللَّه (بن) (٢) الأشج عن رجل من الأنصار يقال له معاوية (٣) أن ابن عباس وأبا هريرة وعائشة قالوا: لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت ابوہریرہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ م فرماتے ہیں کہ اگر بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دے تو وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 18811
١٨٨١١ - [حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) عبد الوهاب الثقفي عن خالد عن الحكم عن أبي سعيد في الذي يطلق امرأته (ثلاثًا) (٢) قبل أن يدخل بها، فقال: لا ⦗١٢٢⦘ تحل له حتى تنكح زوجا غيره] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دے تو وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 18812
١٨٨١٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن نمير عن أشعث عن أبي الزبير عن جابر قال: سمعت أم سلمة سئلت عن رجل طلق امرأته ثلاثًا قبل أن يدخل بها فقالت: لا تحل له حتى يطأها زوجها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دیدے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب تک دوسرا خاوند اس سے شادی کرکے ملاقات نہ کرلے یہ پہلے کے لئے حلال نہیں۔
حدیث نمبر: 18813
١٨٨١٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن عاصم عن زر عن عبد اللَّه قال: إذا طلقها ثلاثًا قبل أن يدخل (بها) (١) فهي بمنزلة (المدخول) (٢) بها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دیں تو وہ اس عورت کے درجہ میں ہے جس سے دخول کیا ہو۔
حدیث نمبر: 18814
١٨٨١٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن (عيينة) (١) عن عاصم عن أبي وائل عن عبد اللَّه بمثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 18815
١٨٨١٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة قال: نا (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن نافع عن ابن (عمر) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت ابوہریرہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ م فرماتے ہیں کہ اگر بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دے تو وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 18816
١٨٨١٦ - (وعن محمد) (١) بن أياس بن بكير (٢) عن أبي هريرة وابن عباس وعائشة في الرجل يطلق امرأته ثلاثًا قبل أن يدخل بها، قالوا: (لا) (٣) تحل له حتى تنكح زوجًا غيره (٤).
حدیث نمبر: 18817
١٨٨١٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر عن إسماعيل عن الشعبي عن ابن (معقل) (١) في رجل طلق امرأته (ثلاثًا) (٢) قبل أن يدخل بها قال: لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دے تو وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 18818
١٨٨١٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن إبراهيم في الرجل يتزوج المرأة فيطلقها ثلاثًا قبل أن يدخل بها قال: إن (١) قال: طالق ثلاثًا (٢) كلمة واحدة، لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره، وإذا طلقها طلاقًا متصلًا فهو كذلك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نکاح کے بعد دخول سے پہلے عورت کو تین طلاقیں دے دے تو اگر اس نے ایک ہی لفظ میں تین طلاقیں دی ہیں تو یہ عورت اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک وہ کسی دوسرے آدمی سے شادی نہ کرلے اور اگر الگ الگ دی ہیں تب بھی یہی حکم ہے۔
حدیث نمبر: 18819
١٨٨١٩ - [حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن فضيل عن حصين عن إبراهيم قال: إذا طلقها ثلاثًا قبل أن يدخل بها لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی اگر بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دے تو وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 18820
١٨٨٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن عاصم عن الشعبي في الرجل يطلق امرأته ثلاثًا قبل أن يدخل بها (قال) (١): لا تحل له حتى تنكح زوجًا غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی اگر بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دے تو وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 18821
١٨٨٢١ - حدثنا أبو بكر قال: نا الثقفي عن خالد (عن) (١) محمد قال: لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی اگر بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دے تو وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 18822
١٨٨٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا (١) حاتم بن وردان (عن برد) (٢) عن مكحول فيمن طلق امرأته قبل أن يدخل بها: إنها لا تحل له حتى تنكح زوجًا غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی اگر بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دے تو وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 18823
١٨٨٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر عن شقيق بن أبي عبد اللَّه عن أنس قال: لا تحل له حتى تنكح زوجًا غيره (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آدمی اگر بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دے تو وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 18824
١٨٨٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب وسعيد بن جبير وحميد بن عبد الرحمن قالوا: لا تحل له حتى تنكح زوجًا غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب، حضرت سعید بن جبیر اور حضرت حمید بن عبد الرحمن s فرماتے ہیں کہ آدمی اگر بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دے تو وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 18825
١٨٨٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن داود عن عامر في رجل طلق امرأته ثلاثًا قبل أن يدخل بها قال: أكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی اگر بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دے تو وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 18826
١٨٨٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن إسرائيل عن عبد الأعلى عن إبراهيم عن عبيدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آدمی اگر بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دے تو وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 18827
١٨٨٢٧ - (و) (١) عن سعيد بن جبير عن ابن عباس (قالا) (٢): إذا (طلقها) (٣) ثلاثًا قبل أن يدخل بها فلا تحل له حتى تنكح زوجًا غيره (٤).