کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک ایسی طلاق واقع ہوجاتی ہے اور اگر طلاق کو کسی وقت کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو اس وقت طلاق ہوجاتی ہے
حدیث نمبر: 18787
١٨٧٨٧ - [حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن نمير وأبو أسامة عن يحيى بن سعيد قال: كان سالم وقاسم وعمر بن عبد العزيز يرونه جائزًا عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم، حضرت قاسم اور حضرت عمر بن عبدالعزیز s اس طلاق کو جائز سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 18788
١٨٧٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا معتمر عن ليث عن مجاهد قال: يكف عنها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس عورت سے دور رہے۔
حدیث نمبر: 18789
١٨٧٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن إسماعيل عن الشعبي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ اور ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب طلاق کو کسی وقت کے ساتھ خاص کردیا توطلاق واقع ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 18790
١٨٧٩٠ - (و) (١) عن سفيان عن منصور عن إبراهيم (قالا) (٢): إذا وقت وقع] (٣).
حدیث نمبر: 18791
١٨٧٩١ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن فضيل عن مطرف عن الشعبي أنه سئل عن رجل قال لامرأته: كل امرأة (أتزوجها) (١) عليك فهي طالق، قال: فكل امرأة يتزوجها عليها، فهي طالق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں تیرے ہوئے جس عورت سے بھی شادی کروں اسے طلاق ہے، تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ اس بیوی کے ہوتے ہوئے جس عورت سے بھی شادی کرے گا اسے طلاق ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 18792
١٨٧٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا كثير بن هشام عن جعفر بن برقان عن حبيب بن أبي مرزوق عن عطاء قال: إذا الرجل (شرط) (١) للمرأة عند عقد النكاح أن كل امرأة يتزوجها عليها فهي طالق، وكل سرية يتسرى فهي حرة جاز عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے کسی عورت سے نکاح کرتے ہوئے یہ شرط لگائی کہ آدمی نے اس عورت کے ہوتے ہوئے کسی عورت سے شادی کی تو اسے طلاق اور اگر کوئی باندی اس کے پاس آئی تو وہ آزاد تو یہ شرط درست ہوگی۔
حدیث نمبر: 18793
١٨٧٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا حماد بن خالد عن هشام بن سعد قال: قال الزهري: إذا وقع النكاح وقع الطلاق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب نکاح واقع ہوگا تو طلاق بھی واقع ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 18794
١٨٧٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن حماد في رجل قال: لامرأته كل امرأة أتزوجها عليك فهي طالق، قال: (١) هو وقت داخل عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ تیرے ہوتے ہوئے اگر میں نے کسی عورت سے شادی کی تو اسے طلاق ہے تو جب بھی یہ کسی سے نکاح کرے گا اسے طلاق ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 18795
١٨٧٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن حنظلة قال: سئل القاسم وسالم عن رجل قال: يوم (أتزوج) (١) فلانة فهي طالق [(قالا) (٢): هي (كما قال) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم رحمہ اللہ اور حضرت سالم رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا اگر کوئی آدمی یہ کہے کہ میں جس دن فلانی عورت سے شادی کروں اسے طلاق ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جو اس نے کہا ہے اسی طرح ہوگا۔
حدیث نمبر: 18796
١٨٧٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر ⦗١١٧⦘ قال: سألت القاسم عن رجل قال: يوم أتزوج فلانة فهي طالق] (٢) قال: (هي) (٣) طالق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا جس نے کہا کہ جس دن میں فلانی عورت سے شادی کروں اسے طلاق ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب وہ اس سے شادی کرے گا اسے طلاق ہوجائے گی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی کسی عورت کے بارے میں یہ کہے کہ جس دن میں فلاں عورت سے شادی کروں اس دن وہ میرے لئے میری ماں کی پشت کی طرح ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ کفارہ دینے سے پہلے اس سے نکاح نہیں کرسکتا۔
حدیث نمبر: 18797
١٨٧٩٧ - (١) سئل عمر (عن رجل قال) (٢): يوم أتزوج فلانة فهي علي (كظهر) (٣) أمي قال: لا يتزوجها حتى يكفر (٤).
حدیث نمبر: 18798
١٨٧٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن محمد بن قيس عن إبراهيم عن الأسود أنه (وقّت) (١) امرأة إن (تزوجها) (٢) (فسأل) (٣) ابن (مسعود) (٤) (فقال) (٥): أعلمها (بالطلاق) (٦) ثم تزوجها (٧).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت اسود رحمہ اللہ نے ایک عورت کو کہا کہ اگر وہ اس سے شادی کریں تو اسے طلاق ہے پھر اس بارے میں انہوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اسے پہلے طلاق کا بتادو پھر اس سے شادی کرو۔
حدیث نمبر: 18799
١٨٧٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن (عمر) (١) بن حمزة أنه سأل ⦗١١٨⦘ سالمًا والقاسم وأبا بكر بن عبد الرحمن وأبا بكر بن (عمرو) (٢) بن حزم وعبد اللَّه بن عبد الرحمن عن رجل قال: يوم أتزوج فلانة فهي طالق البتة، (فقالوا) (٣) كلهم: لا يتزوجها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن حمزہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت قاسم، حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن اور حضرت ابوبکر بن عمرو s سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا جس نے کہا کہ میں جس دن فلاں عورت سے شادی کروں اسے طلاق ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ ان سب نے فرمایا کہ وہ اس سے شادی نہ کرے۔
حدیث نمبر: 18800
١٨٨٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن منصور (١) عن شريح أن رجلًا سأله عن رجل قال: يوم أتزوج فلانة فهي طالق فقال شريح: إذا سمعت بوادي (النوكاء حُلّ به) (٢)! يعني: أنها طالق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ ایک آدمی نے کہا کہ میں جس دن فلاں عورت سے شادی کروں اسے طلاق ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب وہ اس سے شادی کرے گا اسے طلاق ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 18801
١٨٨٠١ - حدثنا أبو بكر قال: نا مروان بن معاوية عن سويد بن نجيح الكندي قال: سألت الشعبي عن رجل قال: (إن تزوجت) (١) فلانة فهي طالق، أو يوم أتزوج فلانة فهي طالق، قال الشعبي: هو كما (قال) (٢) فقلت: إن عكرمة يزعم أن الطلاق بعد النكاح فقال: (جرمز) (٣) مولى ابن عباس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن نجیح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی رحمہ اللہ سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا کہ اس نے کہا کہ اگر میں فلانی عورت سے شادی کروں تو اسے طلاق ہے ، اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جیسے اس نے کہا ہے ایسے ہی ہوگا۔ میں نے کہا کہ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق نکاح کے بعد ہوتی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ جرمز ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ ہیں۔