کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک آدمی نے کہا کہ ’’میں جس دن فلاں عورت سے شادی کروں اسے تین طلاقیں‘‘تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18781
١٨٧٨١ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن (معرف) (١) عن عمرو عن طاوس أنه قال: لا طلاق قبل نكاح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہوتی ` میں نے اس بارے میں قاسم بن عبدالرحمن سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ کچھ نہیں۔
حدیث نمبر: 18782
١٨٧٨٢ - قال: وسألت القاسم بن عبد الرحمن فقال: ليس (بشيء) (١).
حدیث نمبر: 18783
١٨٧٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن (معرف) (١) بن واصل عن الحسن بن (رواح) (٢) الضبي قال: سألت سعيد بن المسيب ومجاهدًا (٣) وعطاءً عن رجل قال: يوم أتزوج فلانة فهي طالق فقالوا: ليس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن رواح ضبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب، حضرت مجاہد اور حضرت عطاء s سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں جس دن فلاں عورت سے شادی کروں تو اسے طلاق ہے، اس بات کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ کوئی چیز نہیں۔ حضرت سعید رحمہ اللہ نے مثال سے بات سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ کیا سیلاب بارش سے پہلے آسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 18784
١٨٧٨٤ - وقال (١) سعيد: يكون (سيل) (٢) قبل مطر؟.
حدیث نمبر: 18785
١٨٧٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا قبيصة قال: نا يونس بن أبي إسحاق عن آدم مولى خالد عن سعيد بن جبير قال: قال ابن عباس: قال اللَّه تعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ﴾ [الأحزاب: ٤٩]، ⦗١١٥⦘ فلا يكون (الطلاق) (١) حتى يكون (النكاح) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما قرآن مجید کی آیت { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إذَا نَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوہُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوہُنَّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ طلاق اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک نکاح نہ ہو۔
حدیث نمبر: 18786
١٨٧٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا جعفر بن عون عن أسامة عن محمد بن كعب ونافع بن جبير (قالا) (١): لا طلاق إلا بعد نكاح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن کعب اور حضرت نافع بن جبیر d فرماتے ہیں کہ طلاق نکاح کے بعد ہی ہوتی ہے۔