کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تو اس گھر میں داخل ہوئی توتجھے طلاق ہے، وہ اس گھر میں داخل ہوئی لیکن آدمی کو علم نہیں تھا تو اسے جب علم ہو تو رجوع پر گواہ بنانا ضروری ہے
حدیث نمبر: 18735
١٨٧٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد قال: سئل عن رجل قال لامرأته: إن دخلت دار فلان فأنت طالق، (فدخلت) (١) وهو لا يشعر، حتى مضى لذلك أشهر، فحدثنا عن قتادة عن الحسن وسعيد و (خلاس) (٢) (أنهم) (٣) قالوا: إذا علم أشهد على مراجعتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تو فلاں گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق ہے، وہ عورت اس گھر میں داخل ہوگئی لیکن مرد کو علم نہ تھا۔ اسے کئی مہینوں بعد پتہ چلا تو اس بارے میں حسن، حضرت سعید اور حضرت خلاس s فرماتے ہیں کہ جب اسے علم ہو تو اپنے رجوع پر گواہ بنائے۔
حدیث نمبر: 18736
١٨٧٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن في رجل قال: (إن) (١) دخلت دار فلان فأنت طالق واحدة، فدخلت وهو لا يشعر (قال) (٢): إن كان غشيها في العدة فغشيانه لها مراجعة وإلا فقد بانت منه بواحدة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تو فلاں شخص کے گھر میں داخل ہوئی تو تجھے ایک طلاق ہے، اگر وہ داخل ہوئی اور مرد کو علم نہیں تھا، اب اگر عدت میں آدمی نے اس سے جماع کیا تھا تو جماع کرنا رجوع ہے اور اگر نہیں کیا تھا تو عورت کو ایک طلاق بائنہ ہوجائے گی۔