حدیث نمبر: 18679
١٨٦٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد اللَّه قال: من أراد الطلاق الذي هو الطلاق، فليطلقها تطليقة، ثم يدعها حتى تحيض ثلاث حيض (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص صحیح معنی میں طلاق دینا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ صرف ایک طلاق دے کر عورت کو چھوڑ دے اور تین حیض گزرنے دے۔
حدیث نمبر: 18680
١٨٦٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا سفيان ابن عيينة عن هشام بن (حجير) (١) عن طاوس قال: طلاق السنة أن يطلق الرجل امرأته طاهرًا في غير جماع، ثم يدعها حتى تنقضي عدتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق سنت یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی کو بغیر جماع کے طہر میں طلاق دے پھر اس کی عدت گذرنے دے۔
حدیث نمبر: 18681
١٨٦٨١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الوهاب الثقفي عن خالد الحذاء عن أبي قلابة أنه كان يقول في طلاق السنة: أن يطلقها واحدة ثم يَدَعها حتى تَبين (بها) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق سنت یہ ہے کہ آدمی ایک طلاق دے دے پھر اسے چھوڑ دے یہاں تک کہ وہ بائنہ ہوجائے۔
حدیث نمبر: 18682
١٨٦٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن حماد بن زيد عن يحيى بن عتيق عن ابن سيرين قال: قال علي: لو أن الناس أصابوا حد الطلاق ما ندم رجل على امرأة [يطلقها واحدة ثم يتركها حتى تحيض ثلاث حيض (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر لوگوں کو طلاق پر حد جاری ہو تو کوئی آدمی بیوی کو طلاق دینے کے بعد شرمندہ نہ ہو، وہ عورت کو ایک طلاق دے دے اور پھر اسے تین حیض آنے تک چھوڑے رکھے۔
حدیث نمبر: 18683
١٨٦٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يستحبون أن يطلقها] (١) واحدة ثم يتركها حتى تحيض (ثلاث حيض) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات کو مستحب سمجھتے تھے کہ آدمی بیوی کو ایک طلاق دے پھر تین حیض تک اسے چھوڑے رکھے۔
حدیث نمبر: 18684
١٨٦٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا شبابة بن سوار عن شعبة عن الحكم وحماد في الطلاق السنة قالا: يطلق الرجل امرأته ثم يدعها حتى تنقضي عدتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ اور حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق سنت یہ ہے کہ آدمی بیوی کو طلاق دے اور پھر عدت گذرنے تک اسے چھوڑے رکھے۔
حدیث نمبر: 18685
١٨٦٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو عامر العقدي عن (عبد الحكيم) (١) بن أبي فروة قال: سمعت عمر بن عبد العزيز يقول: ما (بال) (٢) رجال يقول أحدهم (لامرأته) (٣): اذهبي إلى أهلك، فيطلقها في أهلها فنهى عن ذلك أشد النهي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو کیا ہوا کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ اپنے اہل کے پاس چلی جا ! اور پھر وہ اسے اس کے اہل میں طلاق دیتا ہے۔ انہوں نے اس سے سختی سے منع کیا۔
حدیث نمبر: 18686
١٨٦٨٦ - قال عبد الحكيم (١): يعني بذلك العدة.