حدیث نمبر: 18664
١٨٦٦٤ - حدثنا أبو (١) عبد الرحمن (٢) (بقي) (٣) بن مخلد (قال: نا) (٤) أبو بكر عبد اللَّه بن محمد (بن) (٥) أبي شيبة قال: نا عبد اللَّه بن إدريس ووكيع وحفص و (أبو) (٦) معاوية عن الأعمش عن مالك بن (الحارث) (٧) (عن) (٨) عبد الرحمن بن يزيد عن عبد اللَّه: ﴿فَطَلِّقُوهُنَّ (لِعِدَّتِهِنَّ) (٩)﴾ [الطلاق: ١]، قال: طاهرًا (من) (١٠) ⦗٨٦⦘ غير جماع (١١).
حدیث نمبر: 18665
١٨٦٦٥ - [حدثنا أبو بكر قال: أخبرنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق (عن أبي الأحوص) (١) عن عبد اللَّه قال: إذا أراد الرجل أن يطلق امرأته فليطلقها في غير جماع] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ کرے تو اسے اس حال میں طلاق دے کہ وہ پاک ہو اور اس طہر میں اس سے جماع نہ کیا ہو۔
حدیث نمبر: 18666
١٨٦٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد السلام بن حرب عن يزيد الدالاني عن أبي العلاء عن حميد بن عبد الرحمن الحميري قال: بلغ (أبا) (١) موسى أن النبي ﷺ (٢) وجد عليهم، فأتاه فذكر ذلك له فقال رسول اللَّه ﷺ: "يقول أحدكم: قد (تزوجت) (٣)، قد طلقت، وليس كذا عدة المسلمين، طلقوا المرأة في قبل عدتها" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن عبد الرحمن حمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو خبر پہنچی کہ حضور ﷺ لوگوں سے ناراض ہوئے ہیں۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ایک کہتا ہے کہ میں نے شادی کی ! میں نے طلاق دے دی ! یہ مسلمانوں کا طریقہ نہیں ہے۔ عورت کی اس کی عدت کے شروع میں طلاق دو ۔ (کہ اس کے لئے عدت کو شمار کرنا آسان ہو)
حدیث نمبر: 18667
١٨٦٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن الحكم قال: سمعت مجاهدًا يحدث عن ابن عباس (في) (١) هذا الحرف: ﴿يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [الطلاق: ١]، قال: في قبل عدتها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن مجید کی آیت { فَطَلِّقُوہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ عورت کو اس کی عدت کے شروع میں طلاق دو ۔ (کہ اس کے لئے عدت کو شمار کرنا آسان ہو)
حدیث نمبر: 18668
١٨٦٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن يزيد عن ابن سيرين قال: قال رجل -يعني عليًا-: (لو) (١) أن الناس أصابوا (حد) (٢) الطلاق ما ندم رجل على امرأة يطلقها وهي حامل -قد تبين حملها-، أو طاهر لم يجامعها (٣) (منذ طهرت) (٤) ينتظر حتى إذا كان في قبل عدتها (طلقها) (٥) فإن بدا (له) (٦) أن يراجعها (راجعها) (٧) وإن بدا له أن يخلي سبيلها (٨) (خلى سبيلها) (٩) (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر لوگوں کو طلاق پر حد کا سامنا کرنا پڑے تو کوئی آدمی اپنی بیوی کو حالت حمل میں طلاق دینے کے بعد اور اس طہر میں طلاق دینے کے بعد جس میں اس سے جماع نہ کیا ہو، نادم نہ ہو، وہ انتظار کرے اور اسے عدت کے شروع میں طلاق دے، پھر اگر رجوع کرنا چاہے تو رجوع کرلے اور اگر اسے رخصت ہی کرنا چاہے تورخصت کردے۔
حدیث نمبر: 18669
١٨٦٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن إدريس عن هشام عن الحسن وابن سيرين أنهما قالا: طلاق السنة في قبل العدة، يطلقها طاهرًا في غير جماع وإن كان ⦗٨٨⦘ (بها) (١) حمل طلقها (متى شاء) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ اور حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق سنت یہ ہے کہ عدت کے شروع میں طلاق دی جائے، وہ اسے اس حال میں طلاق دے کہ وہ پاک ہو اور اس سے جماع نہ کیا ہو، اور اگر وہ حاملہ ہو تو اسے جب چاہے طلاق دے دے۔
حدیث نمبر: 18670
١٨٦٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن إدريس عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: طلقت امرأتي وهي (حائض) (١)، فذكر ذلك عمر لرسول اللَّه ﷺ فقال: "مره فليراجعها حتى تطهر، ثم تحيض، ثم تطهر، ثم إن شاء طلقها قبل أن يجامعها وإن شاء أمسكها فإنها العدة التي قال اللَّه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کا تذکرہ حضور ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ ان سے کہو کہ وہ رجوع کرلیں، پھر عورت پاک ہو، پھر اسے حیض آئے، پھر جب پاک ہوتوچا ہے تو جماع سے پہلے اسے طلاق دے دے اور چاہے تو روک لے، کیونکہ عدت وہی ہے جو اللہ نے بیان فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 18671
١٨٦٧١ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو الأحوص عن منصور عن أبي وائل قال: طلق ابن عمر امرأته وهي حائض فأتى عمر النبي ﷺ (١) فأخبره فقال النبي ﷺ: "مره فليراجعها، ثم ليطلقها طاهرًا في غير جماع" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کا تذکرہ حضور ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ ان سے کہو کہ وہ رجوع کرلیں، پھر پاک ہونے کے بعد جماع سے پہلے طلاق دے دیں۔
حدیث نمبر: 18672
١٨٦٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن محمد بن عبد الرحمن مولى آل طلحة عن سالم عن ابن عمر أنه طلق امرأته وهي حائض، فذكر ذلك عمر للنبي ﷺ فقال: "مره فليراجعها، ثم ليطلقها طاهرًا أو حاملًا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کا تذکرہ حضور ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ ان سے کہو کہ وہ رجوع کرلیں، پھر پاک ہونے کی حالت میں یا حاملہ ہونے کی حالت میں طلاق دے دیں۔
حدیث نمبر: 18673
١٨٦٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن ليث عن طاوس قال: إذا طلقها في طهر قد (جامعها فيه) (١) لم تعتد بتلك الحيضة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایسے طہر میں طلاق دی جس میں جماع کیا تھا تو وہ حیض شمار نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 18674
١٨٦٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن (حسن) (١) بن صالح عن بيان عن الشعبي قال: إذا طلقها وهي طاهر فقد طلقها للسنة وإن كان قد جامعها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حالت طہر میں طلاق دی تو سمجھو کہ طلاق سنت دی خواہ اس سے جماع کیا ہو۔
حدیث نمبر: 18675
١٨٦٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عكرمة ومجاهد ﴿فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾، (قالا) (١): طاهرًا في غير جماع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ اور حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی آیت { فَطَلِّقُوہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ } کا مطلب یہ ہے کہ اسے حالت طہر میں بغیر جماع کے طلاق دے۔
حدیث نمبر: 18676
١٨٦٧٦ - قال نا الثقفي عن خالد (عن) (١) محمد: (فطلقوهن لعدتهن) قال: (طاهرا) (٢) أو (حاملًا) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی آیت { فَطَلِّقُوہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ } کا مطلب یہ ہے کہ اسے حالت طہر میں یا حالت حمل میں طلاق دے۔
حدیث نمبر: 18677
١٨٦٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن هشام عن ابن سيرين عن عبيدة عن علي قال: ما طلق رجل طلاق السنة فندم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلاق سنت دینے والا کبھی نادم نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 18678
١٨٦٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن (حسن) (١) بن صالح عن إبراهيم بن مهاجر (عن إبراهيم) (٢) عن عبد اللَّه قال: طلاق (السنة) (٣) في قبل الطهر (من) (٤) ⦗٩٠⦘ غير جماع (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلاق سنت بغیر جماع کے طہر سے پہلے ہوتی ہے۔