کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: ایک آدمی نے کسی عورت سے شادی کی، پھرو ہ مرگیایا طلاق دے دی، جبکہ اس آدمی کی پہلے سے ایک بیٹی تھی، کیا آدمی کے بیٹے کے لئے اس لڑکی سے شادی کرنا جائز ہے؟
❮
❯
١٨٦٦٠ - حدثنا أبو بكر (قال) (١): نا الفضل بن (دكين) (٢) قال: نا سيف عن ابن أبي نجيح عن طاوس أنه كان يقول: (لو) (٣) أن رجلًا تزوج امرأة فطلقها أو مات عنها ولها (ابنة) (٤): (يحل) (٥) لابن الرجل أن يتزوجها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرمایا کرتے تھے کہ ایک آدمی نے کسی عورت سے شادی کی، پھرو ہ مرگیا یا طلاق دے دی، جبکہ اس آدمی کی پہلے سے ایک بیٹی تھی، آدمی کے بیٹے کے لئے اس لڑکی سے شادی کرنا جائز ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18660
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18660، ترقيم محمد عوامة 18017)
١٨٦٦١ - حدثنا الفضل بن (دكين) (١) قال: نا سيف عن ابن أبي نجيح [عن عطاء قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18661
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18661، ترقيم محمد عوامة 18018)
١٨٦٦٢ - حدثنا الفضل بن (دكين) (١) قال: نا سيف عن ابن أبي نجيح] (٢) عن ⦗٨٤⦘ مجاهد أنه (كرهه) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ مکروہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18662
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18662، ترقيم محمد عوامة 18019)
١٨٦٦٣ - حدثنا الفضل عن سيف عن ابن أبي نجيح عن عكرمة مولى ابن عباس أنه كرهه. (تم) (١) كتاب النكاح. (والحمد للَّه) (٢) [وحده وصلواته على سيدنا محمد وآله وصحبه وسلم تسليمًا كثيرًا] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایسا کرنا مکروہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18663
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18663، ترقيم محمد عوامة 18020)