کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک آدمی کواس کی بیوی پیش کی گئی، لیکن وہ کہتی ہے کہ اس نے مجھے نہیں چھوا، مرد بھی اس کی تصدیق کرتا ہے، کیا اس عورت کومہر ملے گا؟
حدیث نمبر: 18474
١٨٤٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن خالد عن (عزرة) (١) ⦗٢٨⦘ شريح أنه قال في رجل (أهديت) (٢) إليه امرأته فزعم أنه لم يدخل بها، وأقرت هي بذلك فقضى لها بنصف الصداق وألزمها العدة (و) (٣) قال (٤): أصدقكِ على نفسك، ولا أصدقك لنفسك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کو اس کی بیوی پیش کی گئی، لیکن اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے بیوی سے دخول نہیں کیا، عورت بھی اس کا اقرار کرتی ہے، تو عورت کو نصف مہر ملے گا اور اس پر عدت بھی لازم ہوگی۔ نیز یہ فیصلہ کرنے کے بعد قاضی شریح رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں تیرے نفس پر تیری تصدیق نہیں کرتا اور عورت کے نفس پر اس کی تصدیق نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 18475
١٨٤٧٥ - حدثنا محمد بن يزيد (١) عن (٢) (أيوب) (٣) (٤) أبي (العلاء) (٥) عن منصور عن الحسن قال: عليه (المهر) (٦) كاملًا إن (شاءت) (٧) أخذته، وإن شاءت تركته.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ ایسی صورت میں فرماتے ہیں کہ مرد پر پورا مہر لازم ہوگا عورت چاہے تو لے لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔