کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی آدمی کی دو بیویاں یادو باندیاں ہوں توکیا دوسری کے سامنے ایک سے جماع کرسکتا ہے؟
حدیث نمبر: 18471
١٨٤٧١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن غالب قال: سألت الحسن ⦗٢٧⦘ أو سئل عن (الرجل) (١) (تكون) (٢) له امرأتان في بيت قال، كانوا يكرهون (الوجس) (٣) (٤) أن يطأ (إحداهما) (٥) والأخرى (ترى) (٦) أو تسمع.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کی دو بیویاں ایک کمرے میں ہوں تو ایک کے سامنے یا اس کے سنتے ہوئے دوسری سے جماع کرنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 18472
١٨٤٧٢ - حدثنا عباد بن العوام (عن) (١) أبي شيبة قال: سمعت عكرمة يحدث عن ابن عباس قال: كان ينام بين جاريتين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی دو باندیوں کے درمیان سویا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 18473
١٨٤٧٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن شريك عن ليث عن عطاء أنه كان لا يرى بأسًا أن (١) ينام الرجل بين الأمتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو باندیوں کے درمیان سونے میں کوئی حرج نہیں۔