حدیث نمبر: 18462
١٨٤٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) إسماعيل بن علية عن أيوب عن أبي قلابة قال: كان رسول اللَّه ﷺ يقسم بين نسائه فيعدل ثم يقول: "اللهم هذه قسمتي (فيما) (٢) أملك (فلا تلمني) (٣) فيما (تملك) (٤) أنت ولا (أملك) (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کے مابین عدل سے تقسیم فرمایا کرتے تھے اور ارشاد فرماتے کہ اے اللہ ! یہ میری وہ تقسیم ہے جو میرے اختیار میں تھی اور جو میرے اختیار میں نہیں تیرے اختیار میں ہے اس کے بارے میں مجھ سے مواخذہ نہ فرما۔
حدیث نمبر: 18463
١٨٤٦٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: ناحماد بن سلمة عن أيوب عن أبي قلابة عن عبد اللَّه بن يزيد عن عائشة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ يقسم بين نسائه فيعدل ثم يقول: "اللهم هذا فعلي فيما أملك، فلا تلمني فيما تملك ولا أملك" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کے مابین عدل سے تقسیم فرمایا کرتے تھے اور ارشاد فرماتے کہ اے اللہ ! یہ میری وہ تقسیم ہے جو میرے اختیار میں تھی اور جو میرے اختیار میں نہیں تیرے اختیار میں ہے اس کے بارے میں مجھ سے مواخذہ نہ فرما۔
حدیث نمبر: 18464
١٨٤٦٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن (يحيى بن) (١) سعيد أن (معاذًا) (٢) كانت له امرأتان فكان يكره أن (يتوضأ) (٣) في يوم هذه عند هذه، أو يكون في (يوم) (٤) هذه عند هذه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی دو بیویاں تھیں، وہ اس بات کو ناپسند کرتے کہ ایک کی باری والے دن دوسری کے یہاں سے وضو بھی کرلیں یا دوسری کے پاس رہیں۔
حدیث نمبر: 18465
١٨٤٦٥ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن هارون (بن) (١) إبراهيم قال: سمعت محمدًا يقول (فيمن) (٢) له امرأتان: يكره أن (يتوضأ) (٣) في (بيت) (٤) (إِحداهما) (٥) دون الأخرى.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کی دو بیویاں ہوں تو ایک کی باری والے دن دوسرے کے یہاں وضو کرنا بھی مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 18466
١٨٤٦٦ - حدثنا محمد بن (بكر) (١) عن عبيد أبي (الحزم) (٢) عن جابر بن زيد قال: كانت لي امرأتان (فكنت) (٣) أعدل بينهما حتى في (القبل) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میری دو بیویاں تھیں میں ان دونوں کے درمیان توجہ کرنے میں بھی عدل سے کام لیتا تھا۔
حدیث نمبر: 18467
١٨٤٦٧ - حدثنا يحيى بن آدم عن شريك عن ليث عن مجاهد قال: كانوا يستحبون أن يعدلوا بين النساء حتى في (الطيب، يتطيب) (١) لهذه (كما يتطيب لهذه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات کو پسند فرماتے ہیں کہ خوشبو لگانے میں بھی بیویوں کے درمیان برابری سے کام لیں۔ ایک کے لئے بھی وہی خوشبو لگائیں جو دوسری کے لئے لگاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 18468
١٨٤٦٨ - حدثنا جرير عن مغيرة عن أبي معشر عن إبراهيم في الرجل يجمع بين (الضرائر) (١) (فقال) (٢): (إن) (٣) (كانوا) (٤) (ليسوون) (٥) بينهن حتى تبقى الفضلة مما (لا) (٦) يكال من السويق والطعام، فيقسمونه (كفا كفًا) (٧)، إذا كان يبقى الشيء مما لا يُسْتَطَاعُ (كَيْلُه) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے والے شخص سے فرمایا کرتے تھے کہ اسلاف بیویوں کے درمیان برابری کرنے میں اس قدر احتیاط سے کام لیتے تھے کہ ستو اور غلے وغیرہ میں سے وہ چیز جو بچ جاتی اور کیل میں نہ آسکتی تو اس کو ہتھیلیوں سے تقسیم کرتے۔
حدیث نمبر: 18469
١٨٤٦٩ - حدثنا جرير عن مغيرة عن أبي معشر عن إبراهيم قال: (لما مرض) (١) (رسول اللَّه) (٢) ﷺ استحل نساءه أن يمرض في بيت عائشة قال: (فأحللن) (٣) له فكان في بيت عائشة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض شدت اختیار کرگیا تو آپ نے دیکھ بھال کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر قیام کے لئے باقی ازواج سے اجازت طلب کی۔ سب نے اجازت دے دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں قیام پذیر ہوگئے۔
حدیث نمبر: 18470
١٨٤٧٠ - حدثنا وكيع عن همام بن يحيى عن قتادة عن النضر بن أنس عن بشير بن نهيك عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من (كان) (١) له امرأتان فكان يميل مع (إحداهما) (٢) على الأخرى بعث يوم القيامة و (أحد) (٣) (شقيه) (٤) ساقط" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کی خاطر مدارت دوسری سے بڑھ کر کرتا ہو تو قیامت کے دن اسے اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اس کا ایک پہلوگرا ہوگا۔