حدیث نمبر: 18425
١٨٤٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا حميد بن عبد الرحمن عن المسعودي عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد اللَّه قال: علمنا رسول اللَّه ﷺ خطبة الصلاة (و) (١) خطبة الحاجة (فأما) (٢) خطبة الصلاة فالتشهد، (وأما) (٣) خطبة الحاجة (فإن) (٤): "الحمد للَّه نستعينه ونستغفره ونعوذ باللَّه من شرور أنفسنا من يهدي اللَّه فلا مضل له ومن (يضلل) (٥) فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللَّه وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله ثم يقرأ (ثلاث) (٦) آيات من كتاب اللَّه: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ [آل عمران: ١٠٢]، ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ [النساء: ١]، ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (٧٠) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ﴾ [الأحزاب: ٧٠ - ٧١] ثم (تعمد) (٧) لحاجتك (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز اور حاجت کا خطبہ سکھایا۔ نماز کا خطبہ تشہد ہے اور حاجت کا خطبہ یہ ہے : : تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، ہم اس سے مدد مانگتے ہیں، ہم اس سے معافی چاہتے ہیں، ہم اپنے نفس کے شرور سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر قرآن مجید کی تین آیات پڑھتے : : اللہ سے ڈرو جیسا کہ ڈرنے کا حق ہے، اور تم اسی حال میں مرنا کہ تم مسلمان ہو۔ : اللہ سے ڈرو جس کے بارے میں اور صلہ رحمی کے بارے میں تم سے سوال کیا جائے گا، بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے۔ : اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کرو۔ اللہ تمہارے اعمال کی اصلاح فرمائے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف فرمائے گا۔۔۔۔۔۔ یہ خطبہ پڑھنے کے بعد اپنی حاجت کا ارادہ کرو۔
حدیث نمبر: 18426
١٨٤٢٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جعفر عن أبيه أن الحسين بن علي كان يزوج بعض بنات الحسن وهو (يَتَعَرَّقُ العرق) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر رحمہ اللہ کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی ایک لڑکی کا نکاح اس حال میں کروا رہے تھے کہ وہ ہڈی سے گوشت اتار کر کھا رہے تھے۔
حدیث نمبر: 18427
١٨٤٢٧ - حدثنا وكيع عن نصر عن عطاء أنه قرأ بسم اللَّه الرحمن الرحيم، ثم زوج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نصر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء رحمہ اللہ سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر نکاح کرادیا۔
حدیث نمبر: 18428
١٨٤٢٨ - حدثنا معاوية بن هشام عن سفيان عن إسماعيل أن مسروقًا زوج) (١) شريحًا ولم يخطب (٢) قال: قد قضيت تلك الحاجة.
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق رحمہ اللہ نے حضرت شریح رحمہ اللہ کی شادی کرائی لیکن خطبہ نہیں پڑھا اور فرمایا کہ یہ ضرورت پوری ہوگئی۔
حدیث نمبر: 18429
١٨٤٢٩ - حدثنا وكيع عن شعبة عن أبي بكر بن حفص قال: سمعت عروة بن الزبير يقول: خطبت (إلى) (١) ابن عمر ابنته فقال: (إن ابن أبي عبد اللَّه) (٢) لأهل أن (ينكح) (٣)؟ نحمد اللَّه (ونصلي) (٤) على النبي ﷺ (٥) (وقد) (٦) زوجناك على ما أمر اللَّه (٧)، ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [البقرة: ٢٢٩] (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بیٹی کے لئے نکاح کا پیغام بھجوایا تو انہوں نے فرمایا کہ ابو عبداللہ رحمہ اللہ کا بیٹا نکاح کا اہل ہے۔ ہم اللہ کی تعریف کرتے ہیں، نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ ہم نے اللہ کے امر {إمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ ، أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } پر عمل کرتے ہوئے تمہاری شادی کرادی۔ حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے چلتے ہوئے ایک آدمی کا نکاح کرادیا۔
حدیث نمبر: 18430
١٨٤٣٠ - قال شعبة: (و) (١) أحسبه قال: أنكح عمر بن الخطاب رجلًا وهو يمشي (٢).
حدیث نمبر: 18431
١٨٤٣١ - قال شعبة: قال أبو بكر بن حفص: لا أدري (الذي) (١) قال: أحسبه عروة بن الزبير أو ابن عمر.