حدیث نمبر: 18413
١٨٤١٣ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) سفيان بن (عيينة) (٢) عن عمار [عن ⦗١٢⦘ أبي مسلم عن أبي عمران عن (أبي) (٣) يحيى] (٤) قال: رأيت رجلًا سأل ابن عباس فقال: يا (أبا) (٥) عباس (إني) (٦) رجل أعبث بذكري حتى أنزل، قال: فقال ابن عباس: أف أف! هو خير من الزنى ونكاح الإماء خير منه (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ اے ابن عباس رضی اللہ عنہما ! میں اپنے آلۂ تناسل کو ہاتھ میں لیتا ہوں اور مجھے انزال ہوجاتا ہے اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ” اف، اف ! یہ زنا جیسا تو نہیں لیکن اس سے بہتر ہے کہ تم باندیوں سے نکاح کرلو۔ “
حدیث نمبر: 18414
١٨٤١٤ - حدثنا وكيع عن (عصام) (١) بن (قدامة) (٢) عن عكرمة عن ابن عباس قال: [هو الفاعل بنفسه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مشت زنی کرنے والا اپنے ساتھ بدکاری کرنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 18415
١٨٤١٥ - (١) حدثنا وكيع عن ابن أبي ذئب عن شيخ قال] (٢): سئل ابن عمر عنها يعني -الخضخضة- فقال: (ذاك) (٣) الفاعل بنفسه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مشت زنی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ اپنے ساتھ بدکاری کرنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 18416
١٨٤١٦ - حدثنا وكيع عن أفلح عن القاسم قال: سئل عن: ﴿وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (٥) إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (٦) فَمَنِ ⦗١٣⦘ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ (٧)﴾ [المؤمنون: ٥ - ٧]: فمن ابتغى وراء ذلك فهو عاد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم رحمہ اللہ سے قرآن مجید کی اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا : ” جو لوگ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی باندیوں اور بیویوں کے کہیں شہوت پوری نہیں کرتے، اس بارے میں وہ قابل ملامت نہیں ہیں۔ جو لوگ اس حد سے تجاوز کریں تو وہ سرکشی کرنے والے ہیں “ اس پر حضرت قاسم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو باندیوں اور بیویوں کے علاوہ کہیں شہوت پوری کریں تو وہ سرکشی کرنے والے ہیں۔