کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک آدمی کی کوئی بیوی یا باندی ہو لیکن اسے بچے میں شک ہو تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 18408
١٨٤٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن حميد (عن) (١) أنس أنه شك في ولد له فأمر أن يدعى له القافة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کو اپنے بچے کے بارے میں شک ہوا تو انہوں نے قیافہ شناس کو بلوانے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 18409
١٨٤٠٩ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن أسلم المنقري عن (عبد اللَّه) (١) (بن) (٢) عبيد بن عمير قال: باع عبد الرحمن بن عوف جارية كان وقع عليها قبل أن (يستبرئها) (٣) فظهر بها حمل عند الذي (اشتراها) (٤) فخاصمه إلى عمر فقال عمر: هل كنت تقع عليها؟ قال: نعم! قال: فبعتها قبل أن تستبرئها؟ قال: نعم، قال: ما كنت لذلك بخليق. قال: فدعا القافة فنظروا إليه (فألحقوه) (٥) به. (قال) (٦): قال: فولد له منها كثير فما (عيروه) (٧) به (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک باندی کے رحم کے خالی ہونے کا یقین کرنے سے پہلے اسے فروخت کردیا، پھر خریدنے والے کے پاس اس کا حمل ظاہر ہوا۔ تو یہ مقدمہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پیش کیا گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ کیا تم اس سے جماع کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے اقرار کیا، پھر پوچھا کہ کیا تم نے اس کے رحم کے صاف ہونے کا یقین کئے بغیر اسے بیچ دیا۔ انہوں نے اقرار کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ پھر انہوں نے قیافہ شناسوں کو بلایا، انہوں نے بچے کو دیکھا تو حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا بچہ قرار دیا، پھر اس باندی سے حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کی بہت اولاد ہوئی اور کسی نے اسے برا قرار نہ دیا۔
حدیث نمبر: 18410
١٨٤١٠ - حدثنا الضحاك بن مخلد عن عثمان بن الأسور عن عطاء في الرجل يشك في ولده (قال: مره) (١) (فليستلحقه) (٢) (وإن) (٣) (عمر) (٤) بن الخطاب قال: من أقر أنه أصاب وليدة أو غشي الحقنا به ولدها (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن اسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کو اپنے بچے کے نسب کے بارے میں شک ہوا تو حضرت عطاء رحمہ اللہ نے اس سے فرمایا کہ اسے حکم نے بچے کو اپنا بچہ قرار دے۔ کیونکہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں فرمایا ہے کہ جس نے اس بات کا اقرار کیا کہ اس نے کسی باندی سے جماع کیا ہے تو ہم بچے کو اسی کا قرار دیں گے۔ پھر میں نے اس بارے میں حضرت عکرمہ بن خالد رحمہ اللہ سے سوال کیا تو انہوں نے بھی فرمایا کہ اسے حکم دو کہ بچے کو اپنا بچہ قرار دے۔
حدیث نمبر: 18411
١٨٤١١ - وسألت عكرمة بن خالد فقال مره: (فليستلحقه) (١).
حدیث نمبر: 18412
١٨٤١٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (نا) (١) سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن رجاء بن حيوة عن قبيصة بن ذؤيب قال: قال عمر: حصنوهن أو لا تحصنوهن؛ لا تلد أمرأة منهن على فراش أحدكم إلا ألحقته (به) (٢) يعني (السراري) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم ان باندیوں کو پاکدامن سمجھو یا نہ سمجھو، ان میں سے کسی عورت نے اگر تم میں سے کسی کے بستر پر بچے کو جنم دیا تو وہ بچہ اسی کا ہوگا۔