کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر مرد وعورت میں عاجل مہر کے بارے میں اختلاف ہوجائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18406
١٨٤٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى قال: سئل عن رجل تزوج امرأة (على) (١) عاجل (و) (٢) آجل فدخل بها فادعت أنه لم (يتبرأ) (٣) إليها من العاجل فقال: (حدثنا) (٤) سعيد عن قتادة أنه كان يقول: المخرج عليها في العاجل، إنه بقي عليه كذا وكذا ودخوله عليها (براءة) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالاعلیٰ رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی نے عورت سے عاجل اور آجل مہر کے عوض نکاح کیا، آدمی نے عورت سے شرعی ملاقات بھی کی لیکن عورت نے یہ دعویٰ کردیا کہ اس نے ابھی عاجل مہر ادا نہیں کیا۔ تو حضرت عبدالاعلیٰ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سعید رحمہ اللہ نے قتادہ رحمہ اللہ کے بارے میں بیان کیا ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ عاجل میں عورت کے لئے مہر کے نکالے جانے کی صورت یہ ہے کہ مرد پر اتنا مہر باقی رہ گیا ہے اور مرد کا عورت سے دخول کرنا عاجل سے بری ہونا ہے۔
حدیث نمبر: 18407
١٨٤٠٧ - حدثنا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة عن الحسن ومطر عن الحسن أنه كان يقول: المخرج عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ مرد سے عاجل مہر وصول کیا جائے گا۔