کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: دو آدمیوں کی دو بہنوں سے شادی ہوئی لیکن ہر ایک کے پاس منکوحہ کے علاوہ دوسری لائی گئی تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18388
١٨٣٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) هشيم عن مغيرة عن إبراهيم أنه قال في رجلين تزوجا أختين، فأدخل (على) (٢) كل (واحد) (٣) منهما امرأة صاحبه قال: ⦗٥٧١⦘ (لهما) (٤) الصداق ويرجع الزوجان على من (غرهما) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر دو آدمیوں کی دو بہنوں سے شادی ہوئی لیکن ہر ایک کے پاس منکوحہ کے علاوہ دوسری لائی گئی تو دونوں عورتوں کو مہر ملے گا اور مہر کے لیے خاوند اس سے رجوع کریں گے جس کی غلطی سے ایسا ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 18389
١٨٣٨٩ - حدثنا هشيم عن محمد بن سالم عن الشعبي أن عليًّا قال ذلك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی یونہی فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 18390
١٨٣٩٠ - حدثنا هشيم عن يونس عن (الحسن) (١) أنه قال ذلك أيضًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ بھی یونہی فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 18391
١٨٣٩١ - حدثنا علي بن مسهر عن سعيد عن قتادة عن (خلاس) (١) (قال) (٢): تزوج (أخوان) (٣) أختين، (فأدخلت) (٤) امرأة هذا على هذا وامرأة هذا على هذا، فرفع ذلك إلى علي فرد كل (واحدة) (٥) منهما إلى (صاحبها) (٦)، وأمر زوجها أن (لا) (٧) يقربها حتى تنقضي عدتها، وجعل لكل (واحدة) (٨) منهما الصداق على الذي وطئها لغشيانه إياها وجعل جهازها، والغرم على الذي زوجها (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خلاس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ دو بھائیوں کا د و بہنوں سے نکاح ہوا، ہر ایک کے پاس منکوحہ کے علاوہ دوسری عورت لائی گئی، یہ مقدمہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پیش ہوا آپ نے ہر عورت کو اس کے اصل خاوند کی طرف واپس فرمایا اور حکم دیا کہ عدت گزرنے تک خاوند اپنی بیویوں کے قریب نہ جائیں۔ پھر آپ نے جماع کرنے والوں پر مہر کو لازم قرار دیا اور تاوان اس شخص پر لازم کیا جس نے شادی کرائی تھی۔