کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کوئی عورت اپنے ہاتھ سے کسی لڑکی کا پردۂ بکارت زائل کردے تو اس پر کیا تاوان ہوگا؟
حدیث نمبر: 18380
١٨٣٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) هشيم عن مغيرة عن إبراهيم أن رجلًا كانت عنده يتيمة (وكانت) (٢) تحضر معه طعامه قال: فخافت (امرأته) (٣) أن يتزوجها عليها (قال) (٤): وغاب الرجل (غيبة) (٥) فاستعانت (امرأته) (٦) ⦗٥٦٧⦘ (بنسوة) (٧) عليها (فضبطنها) (٨) (لها) (٩) وأفسدت عذرتها بيدها وقدم الرجل فجعل يفقدها (عن) (١٠) مائدته (فقال) (١١) (لامرأته) (١٢): ما شأن فلانة لا تحضر طعامي كما كانت تحضر؟ (فقالت) (١٣): دع عنك فلانة فقال: ما شأنها؟ قال: فقذفتها قال: فانطلق الرجل حتى دخل عليها، فقال: ما شأنك ما أمرك؟ قال: فجعلت لا تزيد على البكاء فقال: أخبريني فأخبرته قال: فانطلق إلى علي (رضي اللَّه) (١٤) عنه فذكر ذلك له (قال) (١٥): فأرسل إلى امرأة الرجل وإلى النسوة فسألهن قال: فما (لبثن) (١٦) أن اعترفن قال: فقال (للحسن) (١٧): اقض فيها، فقال الحسن: أرى الحد على من قذفها، والعقر عليها وعلى (الممسكات) (١٨) (قال) (١٩): فقال علي: لو (كلفت) (٢٠) (إبل) (٢١) طحينًا لطحنت قال: وما يطحن يومئذ بعير (٢٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کے پاس ایک یتیم بچی تھی، وہ کھانا بھی اس کے ساتھ کھاتی تھی، آدمی کی بیوی کو اندیشہ ہوا کہ کہیں آدمی اس سے شادی نہ کرلے، چناچہ ایک مرتبہ جب وہ آدمی کہیں گیا ہوا تھا تو اس عورت نے کچھ عورتوں کی مدد سے اس لڑکی کو باندھا اور اس کے پردۂ بکارت کو زائل کردیا، جب آدمی واپس آیا تو دستر خوان پر اس یتیم بچی کو نہ پایا۔ اس نے اپنی بیوی سے اس کے بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگی کہ اس کا تو ذکر ہی نہ کرو، آدمی نے وجہ پوچھی تو عورت نے بچی پر زنا کا الزام لگادیا۔ آدمی اس بچی کے پاس آیا اور اس سے واقعہ کی تصدیق چاہی، بچی نے رونے کے علاوہ کوئی بات نہ کی، اس نے اصرار کیا تو بچی نے ساری بات بتادی۔ وہ آدمی اس مقدمے کو لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ساری بات عرض کی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کی بیوی کو اور باقی عورتوں کو بلا لیا اور ان سے سوال کیا، انہوں نے فوراً ساری بات کو تسلیم کرلیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے فیصلہ کرنے کو کہا تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تہمت لگانے والی عورت پر حد جاری ہوگی اور پردۂ بکارت کو زائل کرنے کا جرمانہ اس عورت پر اور پکڑنے والی عورتوں پر ہوگا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر اونٹوں سے پسوائی کا کام لیا جاتا تو آج میں ان عورتوں کو اونٹوں کے نیچے پسوا دیتا۔ راوی کہتے ہیں کہ اس زمانے میں اونٹوں سے پسوائی کا کام نہیں لیا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18380
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18380، ترقيم محمد عوامة 17758)
حدیث نمبر: 18381
١٨٣٨١ - حدثنا هشيم بن بشير عن إسماعيل عن الشعبي أن (جوار) (١) أربعًا اجتمعن فقالت إحداهن: هي رجل وقالت الأخرى: هي (امرأة) (٢) وقالت الثالثة: أنا أبو الذي (زعمت) (٣) أنها امرأة وقالت الرابعة: أنا أبو الذي (زعمت) (٤) أنها رجل فخطبت (التي) (٥) زعمت أنها أبو الرجل إلى التي زعمت أنها أبو المرأة فزوجتها؛ فأفسدت التي زعمت أنها رجل الجارية التي زوجتها فاختصموا (إلى) (٦) عبد الملك بن مروان فجعل صداقها على أربعتهن ورفع حصة التي زعمت أنها (امرأة) (٧) لأنها (أمكنت) (٨) من نفسها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چار نوعمر لڑکیاں کھیلنے کے لئے جمع ہوئیں، ایک نے کہا کہ وہ آدمی ہے، دوسری نے کہا کہ وہ عورت ہے، تیسری نے کہا کہ وہ عورت کا باپ ہے، چوتھی نے کہا کہ وہ آدمی کا باپ ہے۔ آدمی کے باپ کا کردار ادا کرنے والی نے عورت کے باپ کا کردار ادا کرنے سے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا۔ جب شادی ہوگئی تو لڑکے کا کردار ادا کرنے والی لڑکی نے عورت کا کردار ادا کرنے والی بچی کے پردہ بکارت کو نقصان پہنچا دیا۔ یہ سارا مقدمہ عبد الملک بن مروان کے پاس پیش کیا گیا۔ انہوں نے مہر کے برابر رقم چاروں لڑکیوں پر لازم کی اور عورت کا کردارادا کرنے والی لڑکی کے حصے کو اٹھا دیا۔ یہ فیصلہ عبد اللہ بن معقل مزنی رحمہ اللہ کے پاس پیش ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر یہ میرے پاس آتا تو میں صرف پردہ بکارت کو زائل کرنے والی لڑکی پر تاوان کو لازم کرتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18381
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18381، ترقيم محمد عوامة 17759)
حدیث نمبر: 18382
١٨٣٨٢ - قال: فذكرت ذلك لعبد اللَّه بن (معقل) (١) المزني فقال: لو أني وليت ذلك لم أر الصداق إلا على التي أفسدتها.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18382
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18382، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 18383
١٨٣٨٣ - حدثنا ابن فضيل عن حجاج عن الحكم عن إبراهيم أن امرأة افتضت جارية (بإصبعها) (١) (و) (٢) قالت: إنها زنت (٣) فرفعت إلى علي ⦗٥٦٩⦘ (فغرمها) (٤) (العقر) (٥) وضربها ثمانين لقذفها إياها (٦).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنی انگلی سے ایک بچی کا پردہ بکارت زائل کردیا اور کہہ دیا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس یہ مقدمہ لایا گیا تو آپ نے فرمایا کہ عورت پر پردۂ بکارت کو زائل کرنے کا تاوان ہوگا اور تہمت لگانے کی وجہ سے اسی کوڑے پڑیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18383
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18383، ترقيم محمد عوامة 17760)
حدیث نمبر: 18384
١٨٣٨٤ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن حماد بن سلمة عن أبي (بشر) (١) عن الشعبي أن نسوة (كن) (٢) بالشام فأشرن و (بطرن) (٣) (ولعبن) (٤) (الحزقة) (٥) فركبت واحدة الأخرى و (نخست) (٦) (الأخرى) (٧) فأذهبت (عذرتها) (٨) (فرفع) (٩) ذلك إلى عبد الملك بن مروان فسأل عن ذلك فضالة بن عبيد وقبيصة بن (ذؤيب) (١٠) فقالا: عليهن الدية و (ترفع) (١١) نصيب واحدة (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شام میں کچھ لڑکیاں کھیلنے کے لئے جمع ہوئیں، ایک لڑکی دوسری پر سوار ہوئی اور دوسری نیچے دب گئی جس کی وجہ سے اس کا پردہ بکارت زائل ہوگیا۔ یہ مقدمہ عبد الملک بن مروان کے پاس لایا گیا تو انہوں نے فضالہ بن عبید رحمہ اللہ اور قبیصہ بن ذؤیب رحمہ اللہ سے اس بارے میں سوال کیا۔ ان دونوں نے فرمایا کہ ان سب لڑکیوں پر دیت واجب ہوگی اور ایک کا حصہ اٹھالیا جائے گا۔ ابن معقل رحمہ اللہ نے فرمایا کہ دیت صرف اس پر ہونی چاہئے جس نے اسے دبایا ہے۔ حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں یہی ہونا چاہئے اور دیت کے بجائے پردہ بکارت کو زائل کرنے کا تاوان ہونا چاہئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18384
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18384، ترقيم محمد عوامة 17761)
حدیث نمبر: 18385
١٨٣٨٥ - وقال ابن (معقل) (١): يرى مَنْ نَطَفها إلى (ناخستها) (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18385
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18385، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 18386
١٨٣٨٦ - وقال الشعبي: وأنا أرى ذلك ولها عقرها.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18386
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18386، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 18387
١٨٣٨٧ - حدثنا إسماعيل بن علية عن (عبيد) (١) عن (بكر) (٢) أن جاريتين كانتا بالحمام (فدفعت) (٣) (إحداهما) (٤) (الأخرى) (٥) (فانقضت) (٦) عذرتها فقضى لها شريح: عليها بمثل صداقها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو لڑکیاں حمام میں تھیں، ایک نے دوسرے کو دھکا دیا تو اس کا پردہ بکارت زائل ہوگیا۔ قاضی شریح رحمہ اللہ نے اس کے لئے مہرِ مثلی کا فیصلہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18387
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18387، ترقيم محمد عوامة 17762)