کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر آدمی کسی باندی کو خریدے یاقیدی بنائے اور وہ حاملہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18367
١٨٣٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا سفيان بن عيينة عن (عبيد) (١) اللَّه بن أبي يزيد أنه سأل (٢) ابن عباس عن رجل (اشترى) (٣) جارية وهي حامل أيطأها؟ قال: لا! وقرأ: ﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ [الطلاق: ٤] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن ابی زیاد رحمہ اللہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی باندی خریدے اور وہ حاملہ ہو تو کیا اس سے جماع کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔ پھر قرآن مجید کی آیت پڑھی : حمل والی عورتوں کی عدت یہ ہے کہ وہ بچے کو جنم دے دیں۔
حدیث نمبر: 18368
١٨٣٦٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن داود عن الشعبي قال: قلت (له) (١): إن أبا موسى نهى حين فتح (تستر) (٢): (ألا) (٣) توطأ الحبالى (ولا تشارك) (٤) (المشركين) (٥) في أولادهم، فإن الماء يزيد في الولد، (أشيء) (٦) قاله برأيه؟ أو شيء رواه عن النبي؟ فقال: نهى رسول اللَّه ﷺ يوم أوطاس أن توطأ حامل حتى (تضع) (٧) أو (حائل) (٨) حتى تستبرئ (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داود رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی رحمہ اللہ سے کہا کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے تستر کی فتح کے دن فرمایا تھا کہ کسی حاملہ عورت سے جماع نہ کیا جائے اور مشرکین کی اولاد میں شراکت نہ کی جائے، کیونکہ پانی بچے میں اضافہ کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بات اپنی رائے سے کہی تھی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس کی فتح کے دن فرمایا تھا کہ کسی حاملہ سے بچے کی پیدائش سے پہلے جماع نہ کیا جائے اور دوسری خواتین سے اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک ان کے رحم کا خالی ہونا معلوم نہ ہوجائے۔
حدیث نمبر: 18369
١٨٣٦٩ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن قتادة عن أبي (قلابة) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ليس منا (من) (٢) وطئ (حبلى) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوقلابہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے کسی حاملہ سے وطی کی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 18370
١٨٣٧٠ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس عن النبي ﷺ مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 18371
١٨٣٧١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن (١) إسحاق عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي مرزوق (مولى تجيب) (٢) قال: غزونا مع (رويفع) (٣) بن ثابت الأنصاري نحو المغرب ففتحنا قرية يقال لها (جربة) (٤) قال: فقام فينا (خطيبًا) (٥) فقال: إني لا أقول فيكم إلا ما سمعت (من) (٦) رسول اللَّه ﷺ (قال) (٧) فينا ⦗٥٦٣⦘ يوم خيبر (قال) (٨): "من كان يؤمن باللَّه واليوم الآخر فلا (يسقين) (٩) ماءه زرع غيره" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مرزوق رحمہ اللہ مولیٰ تجیب کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ مغرب کی طرف جنگ کی، ہم نے جربہ نامی ایک گاؤں کو فتح کیا تو حضرت رویفع رضی اللہ عنہ نے ہم میں بیان فرمایا کہ میں تمہیں ایک ایسی بات بتاتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ آپ نے فتحِ خیبر کے دن فرمایا تھا کہ جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پانی سے کسی دوسرے کی کھیتی سیراب نہ کرے۔
حدیث نمبر: 18372
١٨٣٧٢ - حدثنا أبو معاوية عن محمد بن إسحاق عن يزيد بن أبي حبيب عن حنش الصنعاني عن أبي مرزوق (مولى تجبيب) (١) عن (رويفع) (٢) بن ثابت عن النبي بمثله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 18373
١٨٣٧٣ - حدثنا حفص بن (غياث) (١) عن حجاج (عن) (٢) عبد اللَّه بن زيد عن علي قال: نهى رسول اللَّه ﷺ (٣) أن توطأ (الحامل) (٤) حتى تضع أو ⦗٥٦٤⦘ (الحائل) (٥) حتى تستبرئ بحيضة (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ سے وضع حمل سے پہلے اور غیر حاملہ سے حیض کے ذریعے رحم کے صاف ہونے کا یقین ہونے سے پہلے وطی کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 18374
١٨٣٧٤ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن صلة و (قثم) (١) وناجية بن كعب قالوا: أيما رجل اشترى جارية [حبلى فلا يطأها حى تضع حملها، (و) (٢) أيما رجل اشترى جارية] (٣) فلا يقربها حتى تحيض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صلہ، حضرت قثم اور حضرت ناجیہ بن کعب s فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی کوئی حاملہ باندی خریدے تو وضع حمل سے پہلے اس کے ساتھ جماع نہ کرے۔ اور اگر غیر حاملہ خریدے تو اس کو حیض آنے تک اس کے قریب نہ جائے۔
حدیث نمبر: 18375
١٨٣٧٥ - حدثنا ابن نمير عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: نُهي أن (يطأ) (١) الرجل وليدة أو امرأة وفي بطنها جنين لغيره (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ آدمی کسی ایسی باندی یا عورت سے جماع کرے جس کے پیٹ میں کسی دوسرے کا بچہ ہو۔
حدیث نمبر: 18376
١٨٣٧٦ - حدثنا أبو أسامة عن أشعث عن الحسن قال: لما فتحت (تستر) (١) أصاب أبو موسى سبايا فكتب إليه عمر أن لا يقع أحد على امرأة (حبلى) (٢) حتى تضع و (لا) (٣) (يشاركوا) (٤) (المشركين) (٥) في أولادهم فإن الماء تمام الولد (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تستر فتح ہوا تو حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کچھ باندیاں لگیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں خط میں یہ حکم لکھ بھیجا کہ وضع حمل سے پہلے کوئی شخص کسی عورت سے جماع نہ کرے، مشرکین کی اولاد میں حصہ دار نہ بنو کیونکہ پانی بچے کو پورا کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 18377
١٨٣٧٧ - حدثنا معتمر بن سليمان عن معمر عن عمرو بن مسلم عن طاوس أن رسول اللَّه ﷺ-أمر مناديًا (ينادي) (١) في غزوة غزاها أن لا (٢) (يطأ) (٣) (الرجل) (٤) حاملا حتى تضع (و) (٥) لا (حائلًا) (٦) حتى تحيض (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غزوہ میں ایک منادی سے اعلان کرایا کہ حاملہ سے وضع حمل تک اور غیرحاملہ سے حیض کے آنے تک جماع نہ کرو۔
حدیث نمبر: 18378
١٨٣٧٨ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد قال: (حدثنا) (١) القاسم ومكحول عن أبي أمامة أن رسول اللَّه ﷺ نهى يوم خيبر أن (توطأ) (٢) الحبالى حتى يضعن (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خیبر میں حاملہ عورت سے وضع حمل سے پہلے جماع سے منع فرمایا تھا۔
حدیث نمبر: 18379
١٨٣٧٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: نا شعبة عن يزيد بن (خمير) (١) عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن أبيه عن أبي الدرداء أن النبي ﷺ مر على امرأة (مجحٍ) (٢) وهي على باب خباء أو فسطاط فقال: "لمن (هذه) (٣)؟ " فقالوا: لفلان، ⦗٥٦٦⦘ قال: " (أيُلِمّ) (٤) بها"، (قالوا) (٥): نعم! قال: "لقد هممت أن ألعنه لعنة تدخل (معه) (٦) قبره، (كيف) (٧) يستخدمه وهو (يغذوه) (٨) في (بصره) (٩) وسمعه؟ كيف يرثه وهو لا يحل له؟ " (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو دردائ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک غزوہ کے موقع پر حضور ﷺ ایک ایسی حاملہ عورت کے پاس سے گزرے جو قریب الولادت تھی (اور قیدی بنا کر لائی گئی تھی) ، وہ خیمے کے دروازے پر کھڑی تھی۔ حضور ﷺ نے استفسار فرمایا کہ یہ کس کی ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں کی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا وہ اس سے جماع کرتا ہے ؟ لوگوں نے بتایا جی ہاں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ مجھے خیال آتا ہے کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں جو قبر میں اس کے ساتھ جائے۔ وہ اس (سے پیدا ہونے والے بچے ) سے کیسے خدمت لے گا حالانکہ اس کی سماعت اور بصارت کو تقویت دے رہا ہے ؟ وہ اس کا وارث کیسے ہوگا حالانکہ وہ اس کے لئے حلال نہیں ہے ؟