کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: قرآن مجید کی آیت {فِیْ یَتَامَی النِّسَآئِ اللَّاتِیْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا کُتِبَ لَھُنَّ} [النساء ۱۲۷] کی تفسیر
حدیث نمبر: 18300
١٨٣٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) أبو أسامة عن ابن عون عن محمد قال: سألت عبيدة عن قوله: ﴿فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ﴾ [النساء: ١٢٧]، قال: ترغبون فيهن.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے قرآن مجید کی آیت { فِیْ یَتَامَی النِّسَآئِ اللَّاتِیْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا کُتِبَ لَھُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ أَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ } کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ عورتیں ہیں جن میں تمہیں رغبت ہو۔
حدیث نمبر: 18301
١٨٣٠١ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن الحسن قال: قال: في هذه ترغبون عنهن.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { فِیْ یَتَامَی النِّسَآئِ اللَّاتِیْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا کُتِبَ لَھُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ أَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ عورتیں ہیں جن سے تم اعراض کرتے ہو۔
حدیث نمبر: 18302
١٨٣٠٢ - حدثنا عبدة عن هشام عن أبيه عن عائشة في قوله: ﴿وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ﴾، قال: أنزلت في اليتيمة تكون عند الرجل (فتشركه) (١) في ماله (فيرغب) (٢) (عن) (٣) (أن) (٤) يتزوجها، ويكره أن يتزوجها غيره (فيشركه) (٥) في ماله فيعطلها فلا يتزوجها ولا يزوجها غيره (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا قرآن مجید کی آیت { فِیْ یَتَامَی النِّسَآئِ اللَّاتِیْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا کُتِبَ لَھُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ أَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ } کی تفسیر میں فرماتی ہیں کہ یہ آیت اس یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی جو ایک آدمی کے پاس تھی اور اسکے مال میں شریک تھی، وہ آدمی اس سے شادی کرنے کو ناپسند کرتا تھا اور اس بات کو بھی ناپسند کرتا تھا کہ کوئی اور اس سے شادی کرے اور اس کے مال میں شریک ہو، وہ اسے شادی سے محروم رکھتا تھا نہ خود اس سے شادی کرتا تھا نہ کسی اور کو کرنے دیتا تھا۔
حدیث نمبر: 18303
١٨٣٠٣ - حدثنا (جرير عن مغيرة عن إبراهيم) (١) عن عمر قال: من كانت عنده في حجره (تركة) (٢) بها (عوار) (٣) فليضمها إليه، وإن (كانت) (٤) (رغبة) (٥) به (فليزوجها) (٦) (غيره) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کی پرورش میں کوئی یتیم لڑکی ہو تو اس سے شادی کرلے اور اگر وہ اس سے شادی کو ناپسند کرے تو کسی اور سے اس کی شادی کرادے۔
حدیث نمبر: 18304
١٨٣٠٤ - حدثنا عبيد اللَّه (عن) (١) إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي سلمة: (وترغبون أن تنكحوهن) قال: المرأة (يكون) (٢) بها (عرج) (٣) أو (عور) (٤) فلا (يُنكحونها) (٥) حتى (يرثوها) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { فِیْ یَتَامَی النِّسَآئِ اللَّاتِیْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا کُتِبَ لَھُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ أَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جس عورت میں کوئی جسمانی عیب مثلا لنگڑا پن یابھینگا پن ہو تو اس عورت کو وارث بنانے سے پہلے اس کا نکاح نہ کرو۔
حدیث نمبر: 18305
١٨٣٠٥ - حدثنا معاوية بن هشام عن عمار عن عطاء عن سعيد بن جبير: ﴿وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ﴾، قال: ما يتلى عليكم في أول السورة من المواريث، وكانوا لا يورثون امرأة ولا صبيًا حتى (يحتلم) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { فِیْ یَتَامَی النِّسَآئِ اللَّاتِیْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا کُتِبَ لَھُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ أَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد میراث کے وہ احکام ہیں جو سورت کے شروع میں بیان کئے گئے۔ لوگ عورت کو اور نابالغ بچے کو وارث نہیں بناتے تھے۔
حدیث نمبر: 18306
١٨٣٠٦ - حدثنا عبيد اللَّه عن إسرائيل عن السدي عن أبي مالك في (قول اللَّه) (١): ﴿وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ﴾، فقال: كانت المرأة إذا كانت عند ولي رغب عن حسبها (أو) (٢) حسنها -شك أبو بكر- (لم يتزوجها) (٣) ولم يترك أحدًا يتزوجها ﴿وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْوِلْدَانِ وَأَنْ تَقُومُوا لِلْيَتَامَى بِالْقِسْطِ﴾، قال: كانوا لا (يورثون) (٤) إلا الأكبر فالأكبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مالک رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { فِیْ یَتَامَی النِّسَآئِ اللَّاتِیْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا کُتِبَ لَھُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ أَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ عورت جب کسی ولی کے پاس ہوتی تو وہ اس کے خاندان اور حسن سے اعراض کرتے ہوئے نہ تو اس سے خود شادی کرتا اور نہ اسے کسی سے شادی کرنے دیتا۔ اور قرآن مجید کی اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں { وَالْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الْوِلْدَانِ وَأَنْ تَقُومُوا لِلْیَتَامَی بِالْقِسْطِ } کہ لوگ پہلے بڑے کو پھر اس سے چھوٹے کو وارث بناتے تھے۔