حدیث نمبر: 18291
١٨٢٩١ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن نمير عن حماد (بن) (١) أبي الدرداء ⦗٥٤٠⦘ قال: سألت الشعبي عن رجل (زوّج) (٢) أختا له (بواسط) (٣) فكرهت؟ قال: هي أحق بنفسها قلت: (إنه) (٤) أخوها لأبيها وأمها قال: هي أحق بنفسها من أبيها إذا كرهت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد بن ابی دردائ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضر ت شعبی رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ کیا کوئی شخص اپنی بہن کی شادی کراسکتا ہے جبکہ وہ اسے ناپسند کرتی ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ لڑکی اپنے نفس کی اپنے بھائی سے زیادہ حقدار ہے۔ میں نے پوچھا کہ اگر وہ اس کا سگا بھائی ہو تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ لڑکی کو اگر رشتہ ناپسندہو تو وہ اپنے باپ سے بھی زیادہ اپنے نفس کی حقدار ہے۔
حدیث نمبر: 18292
١٨٢٩٢ - حدثنا غندر عن أشعث عن الحسن في رجل زوج أخته وأبوها غائب قال: الأمر إلى أبيها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنے باپ کی غیر موجودگی میں اپنی بہن کی شادی کرائی تو اس کا معاملہ اس کے باپ کے سپرد ہوگا۔