کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر عورت نکاح کا مہر خود ادا کرنا چاہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18289
١٨٢٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير أن عليًا (أتي) (١) في امرأة تزوجت رجلًا (على) (٢) أن عليها الصداق وبيدها الفرقة والجماع؟ فقال (علي: خالفت) (٣) السنة ووليت الأمر (٤) غير أهله، عليك الصداق وبيدك الجماع والفرقة (وذلك) (٥) السنة (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مقدمہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا کہ ایک عورت نے کسی آدمی سے اس شرط پر شادی کی کہ مہر عورت کے ذمے ہوگا اور جدائی اور جماع کا اختیار بھی اسی کے پاس ہوگا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تو نے سنت کی مخالفت کی اور معاملے کا ذمہ دار غیر اہل کو بنایا، مہر تجھ پر ہی ہوگا، جماع اور جدائی کا اختیار بھی تیرے پاس ہوگا، اور تیرے لئے ہی سنت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18289
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18289، ترقيم محمد عوامة 17673)
حدیث نمبر: 18290
١٨٢٩٠ - حدثنا غندر عن أشعث عن الحسن قال: ليس للنساء أن يصدقن الرجال.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورتیں مردوں کو مہر نہیں دے سکتیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18290
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18290، ترقيم محمد عوامة 17674)