کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مردبھی شرعی حیثیت رکھتا ہے
حدیث نمبر: 18243
١٨٢٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا (ابن) (١) إدريس عن ابن جريج (عن الزهري) (٢) عن (عمرو) (٣) بن الشريد قال: سئل ابن عباس عن رجل له امرأة وسرية (ولدت) (٤) (إحداهما) (٥) غلامًا (وأرضعت) (٦) (إحداهما) (٧) جارية هل يصلح للغلام أن يتزوج الجارية؟ قال: (لا) (٨)! (اللقاح) (٩) واحد (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شرید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی کی ایک بیوی اور ایک باندی ہو، ان میں سے ایک کسی لڑکے کو جنم دے اور دوسری کسی لڑکی کو دودھ پلائے تو کیا اس لڑکے کا دودھ پینے والی لڑکی سے نکاح درست ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں، کیونکہ دونوں میں دودھ کے اترنے کا سبب ایک مرد ہے۔
حدیث نمبر: 18244
١٨٢٤٤ - حدثنا هشيم عن حجاج عن (حكم) (١) عن مجاهد أنه كره لبن (الفحل) (٢) وكره قول إبراهيم فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد بھی شرعی حیثیت رکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 18245
١٨٢٤٥ - حدثنا هشيم وابن علية عن يونس عن الحسن أنه (كرهه) (١) ⦗٥٣٠⦘ (يعني) (٢) لبن (الفحل) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد بھی شرعی حیثیت رکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 18246
١٨٢٤٦ - حدثنا هشيم عن عبد اللَّه بن (سبرة) (١) عن الشعبي أنه كرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد بھی شرعی حیثیت رکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 18247
١٨٢٤٧ - حدثنا حفص عن ابن جريج عن عطاء قال: كان يرى لبن الفحل تحريمًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد بھی حرمت کو ثابت کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 18248
١٨٢٤٨ - حدثنا وكيع عن (سفيان) (١) عن خصيف عن سالم أنه كرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم رحمہ اللہ کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد بھی شرعی حیثیت رکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 18249
١٨٢٤٩ - حدثنا ابن علية عن عباد بن منصور قال: سألت القاسم بن محمد قلت: امرأة (أبي) (١) أرضعت جارية من (عرض) (٢) الناس (بلبان) (٣) (إخوتي) (٤) من أبي، تحل لي؟ قال: لا! أبوك أبوها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عباد بن منصور رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ میرے والد کی بیوی نے ایک لڑکی کو میری باپ شریک بہن کے حصے کا دودھ پلایا، کیا وہ لڑکی میرے لئے حلال ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں، تیرا باپ اس کا باپ ہے۔ میں نے یہی سوال حضرت طاوس رحمہ اللہ کیا انہوں نے بھی یہی فرمایا۔ یہ سوال میں نے حسن رحمہ اللہ سے کیا انہوں نے بھی یہی فرمایا۔ یہ سوال میں نے حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے کیا انہوں نے فرمایا کہ اس میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ میں اس میں کوئی بات نہیں کہتا۔ میں نے ابن سیرین رحمہ اللہ سے یہ سوال کیا تو انہوں نے بھی حضرت مجاہد رحمہ اللہ والی بات کہی۔
حدیث نمبر: 18250
١٨٢٥٠ - وسألت طاوسًا فقال مثل ذلك.
حدیث نمبر: 18251
١٨٢٥١ - وسألت الحسن فقال مثل ذلك.
حدیث نمبر: 18252
١٨٢٥٢ - وسألت مجاهدًا فقال: (اختلف) (١) فيه الناس ولا أقول فيها شيئًا.
حدیث نمبر: 18253
١٨٢٥٣ - وسألت ابن سيرين فقال مثل قول مجاهد.
حدیث نمبر: 18254
١٨٢٥٤ - حدثنا ابن علية عن أيوب قال: ذكرت ذلك لمحمد بن سيرين فقال: نبئت أن أناسًا من أهل المدينة اختلفوا فيه فمنهم من كرهه ومنهم من لم (يكرهه) (١) ومن كره أفضل في أنفسنا ممن لم يكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کا تذکرہ حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ اہل مدینہ کا اس بارے میں اختلاف ہے۔ بعض نے اسے مکروہ بتایا ہے اور بعض کے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ جن حضرات نے اسے مکروہ بتایا ہے وہ ہمارے نزدیک زیادہ بہتر ہیں۔ قاسم بن محمد بھی اسے مکروہ بتاتے تھے۔
حدیث نمبر: 18255
١٨٢٥٥ - وكان القاسم بن محمد فيمن (يكرهه) (١).
حدیث نمبر: 18256
١٨٢٥٦ - حدثنا ابن علية عن محمد بن عمرو قال: قدم الزهري في أول خلافة هشام فذكر أن عروة كان يحدث عن عائشة أن أبا القعيس جاء يستأذن على عائشة وقد أرضعتها امرأة (أخيه) (١) فأبت تأذن له (فزعم) (٢) عروة أن عائشة ذكرت ذلك للنبي ﷺ فقال: " (فهلَّا) (٣) أذنت له؟ (فإن) (٤) الرضاعة تحرم ما (تحِرّمُ) (٥) (٦) الولادة" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت زہری ہشام رحمہ اللہ کی خلافت کے ابتدائی دنوں میں مدینہ منورہ آئے اور انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عروہ رحمہ اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ابو قعیس رحمہ اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کے لئے اجازت چاہتے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابو قعیس کو ابو قعیس کے بھائی کی بیوی نے دودھ پلایا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں اجازت دینے سے انکار کردیا۔ حضرت عروہ رحمہ اللہ کا خیال ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا تذکرہ حضور ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ تم نے انہیں اجازت کیوں نہیں دی، رضاعت بھی ان چیزوں کو حرام کردیتی ہے جنہیں نسب حرام کرتا ہے۔ حضور ﷺ کا یہ ارشاد سن کر اہل مدینہ گھبرا گئے۔ عبد اللہ بن ابی حبیبہ مولی زبیر نے اس موقع پر اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔
حدیث نمبر: 18257
١٨٢٥٧ - ففزع أهل المدينة لذلك فطلق عبد اللَّه بن أبي (حبيبة) (١) مولى الزبير امرأته عند ذلك.
حدیث نمبر: 18258
١٨٢٥٨ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن ابن سيرين (فقال) (١): ذكر (لبن) (٢) الفحل فقال: وقد كرهه (أناس) (٣) ورخص فيه أناس فكان من كرهه عند الناس أفضل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ دودھ اترنے کا سبب بننے والے مرد کے حکم کا تذکرہ کیا تو فرمایا کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ مکروہ ہے، بعض نے اس کی اجازت دی ہے۔ جن لوگوں نے اسے مکروہ خیال کیا ان کا قول زیادہ بہتر ہے۔ قاسم بن محمد رحمہ اللہ بھی اسے مکروہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 18259
١٨٢٥٩ - وكان القاسم بن محمد ممن (يكرهه) (١).
حدیث نمبر: 18260
١٨٢٦٠ - حدثنا مالك عن حماد بن (زيد) (١) عن هشام أن أباه كره لبن الفحل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام رحمہ اللہ نے دودھ اترنے کا سبب بننے والے مرد کو شرعی حیثیت دی ہے۔