کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن حضرات کے نزدیک دیہاتی کا مہاجرہ عورت سے نکاح کرنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 18239
١٨٢٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) محمد بن فضيل عن يزيد بن أبي زياد عن زيد بن وهب قال: كتب إلينا عمر أن الأعرابي لا ينكح المهاجرة حتى يخرجها من دار الهجرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہماری طرف خط لکھا کہ کوئی دیہاتی کسی مہاجرہ عورت سے نکاح نہ کرے کہ اسے دار ہجرت سے نکال دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18239
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ يزيد بن أبي زياد ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18239، ترقيم محمد عوامة 17632)
حدیث نمبر: 18240
١٨٢٤٠ - حدثنا عباد بن العوام عن هشام عن الحسن أنه كره أن يتزوج الأعرابي المهاجرة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ دیہاتی کسی مہاجرہ سے نکاح کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18240
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18240، ترقيم محمد عوامة 17633)
حدیث نمبر: 18241
١٨٢٤١ - حدثنا أبو خالد عن محمد بن سالم عن الشعبي أنه كره أن (يزوّج) (١) الأعرابي المهاجرة ليخرجها من (المصر) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ اس بات کو مکروہ خیال فرماتے ہیں کہ کوئی دیہاتی کسی مہاجرہ سے نکاح کرے تاکہ اسے شہر سے لے جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18241
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18241، ترقيم محمد عوامة 17634)
حدیث نمبر: 18242
١٨٢٤٢ - حدثنا عبيدة بن (حميد) (١) عن (الركين) (٢) عن أبيه قال: خطب ⦗٥٢٨⦘ (منظور) (٣) بن (زبان) (٤) (إلى) (٥) (خاله) (٦) وكانا (حاجين أو) (٧) معتمرين فقال: نعم إذا (رجعت) (٨) أنكحتك، فخرج إليها أخوها (ابن) (٩) أمها وأبيها، فأنكحها ابن (خالها) (١٠) (فقدم) (١١) (وقد أنكحت) (١٢) فغضب أبوها غضبًا شديدًا وقال: إني (أفر) (١٣) إلى اللَّه من هذا النكاح، إني سمعت (عمر) (١٤) يقول: لا (ينكح) (١٥) المهاجرات (الأعراب) (١٦) (١٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رکین رحمہ اللہ کے والد فرماتے ہیں کہ منظور بن زبان نے اپنے ماموں سے رشتہ مانگا۔ (اس وقت وہ دونوں حج یاعمرے میں تھے) انہوں نے جواب میں کہا کہ ٹھیک ہے جب میں واپس لوٹوں گا تو تمہارا نکاح کرادوں گا، ادھر اس لڑکی کے سگے بھائی نے اپنے ماموں زاد سے اس لڑکی کا نکاح کرادیا جس کا رشتہ اس کے باپ نے وہاں طے کیا تھا، جب وہ واپس آئے تو لڑکی کا نکاح ہوچکا تھا، وہ اس صورت حال کو دیکھ کر بہت ناراض ہوئے اور کہا کہ میں اس نکاح سے بالکل بری ہوں۔ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مہاجرات کا نکاح دیہاتیوں سے نہیں کرایا جاسکتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18242
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18242، ترقيم محمد عوامة 17635)