کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ایک آدمی کسی عورت سے شادی کرے، دخول بھی کرے اور پھر معلوم ہو کہ وہ تو محرم ہے
حدیث نمبر: 18224
١٨٢٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) هشيم عن مغيرة (عن إبراهيم) (٢) فيمن تزوج ذات محرم منه فدخل بها قال: (٣) لها الصداق.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے غلطی سے کسی محرم سے شادی کرکے ہمبستری بھی کی تو عورت کو پورا مہر ملے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18224
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18224، ترقيم محمد عوامة 17617)
حدیث نمبر: 18225
١٨٢٢٥ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن قال: لها ما أخذت.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو عورت نے مہر لیا وہ اسی کا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18225
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18225، ترقيم محمد عوامة 17618)
حدیث نمبر: 18226
١٨٢٢٦ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن حماد مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18226
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18226، ترقيم محمد عوامة 17619)
حدیث نمبر: 18227
١٨٢٢٧ - حدثنا هشيم عن أشعث عن الشعبي قال: لا صداق لها دخل بها أو لم يدخل بها، أيصدق الرجل أخته (أو) (١) أمه؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت کو مہر نہیں ملے گا خواہ آدمی نے دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ کیا آدمی اپنی بہن یا ماں کو مہر دے گا ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18227
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18227، ترقيم محمد عوامة 17620)
حدیث نمبر: 18228
١٨٢٢٨ - حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم في رجل تزوج أخته من الرضاعة وهو لا يعلم ثم (علم) (١) بعد ذلك، قال: بطل النكاح فإن دخل بها فلها الصداق بما استحل من فرجها، وإن لم يكن دخل بها فرق بينهما ولا صداق.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے انجانے میں اپنی رضاعی بہن سے شادی کرلی پھر اسے بعد میں علم ہوا تو یہ نکاح باطل ہوگا، اگر دخول کیا تو فرج کو حلال کرنے کی بنا پر مہر لازم ہوگا اور اگر دخول نہ ہوا تو بغیر مہر کے دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18228
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18228، ترقيم محمد عوامة 17621)
حدیث نمبر: 18229
١٨٢٢٩ - حدثنا عبد الأعلى عن سعيد عن مطر عن الحكم في رجل تزوج أخته أو أخت امرأته من الرضاعة فدخل بها وهو لا يشعر قال: لها الصداق كاملًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک شخص نے انجانے میں اپنی سگی یارضاعی بہن سے شادی کی اور پھر دخول بھی کر بیٹھا تو اسے مہر ملے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18229
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18229، ترقيم محمد عوامة 17622)
حدیث نمبر: 18230
١٨٢٣٠ - حدثنا عبد الأعلى عن سعيد عن مطر عن الحسن قال: لها الصداق (بما) (١) (أحدث) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسے پورا مہر ملے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18230
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18230، ترقيم محمد عوامة 17623)
حدیث نمبر: 18231
١٨٢٣١ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد قال: كل جماع (درئ) (١) فيه الحد ففيه الصداق كاملًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر وہ جماع جس میں حد نہ ہو اس میں پورا مہر ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18231
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18231، ترقيم محمد عوامة 17624)
حدیث نمبر: 18232
١٨٢٣٢ - حدثنا (عمر) (١) بن هارون عن ابن جريج عن (ابن) (٢) طاوس عن أبيه في رجل تزوج امرأة فإذا هي أخته من الرضاعة فأصابها ولم يشعر بها قال: يفرق بينهما وليس لها الصداق كله، لها بعضه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے انجانے میں اپنی رضاعی بہن سے شادی کرلی اور اس سے جماع بھی کر بیٹھا تو دونوں کے درمیان جدائی کرائی جائے گی، اور عورت کو پورا مہر نہیں ملے گا بلکہ کچھ حصہ ملے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18232
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18232، ترقيم محمد عوامة 17625)