حدیث نمبر: 18208
١٨٢٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن أيوب عن (يزيد) (١) بن (معنق) (٢) قال: قال ابن عمر: (لأن يجعل) (٣) في رأسي مخيط حتى (أخبو) (٤) أحب إلي من أن تقبل رأسي امرأة ليست بمحرم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں کوئی سوئی پوری کی پوری اپنے سر میں چبھو دوں مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ کوئی غیر محرم عورت میرے سر کو چومے۔
حدیث نمبر: 18209
١٨٢٠٩ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: لأن (يثقب القمل) (١) دماغ رجل خير له من أن (تفليه) (٢) امرأة (يحل) (٣) له نكاحها (٤)، وذكر أن امرأة كانت تفلي رجلًا فقبلته.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی آدمی کا دماغ جوؤں سے بھر جائے، یہ اس سے بہتر ہے کہ کوئی غیر محرم عورت اس کے بالوں کی مینڈیاں بنائے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ ایک مرتبہ ایک عورت ایک آدمی کی مینڈیاں بنا رہی تھی تو اس نے اس کا بوسہ لے لیا تھا۔
حدیث نمبر: 18210
١٨٢١٠ - حدثنا غندر عن عثمان بن غياث قال: سمعت الحسن يقول: لا يحل لامرأة تغسل رأس رجل ليس بينها وبينه محرم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غیر محرم عورت کے لئے آدمی کا سردھونا درست نہیں۔
حدیث نمبر: 18211
١٨٢١١ - حدثنا أبو أسامة عن (بشير) (١) بن عقبة قال: حدثني يزيد بن ⦗٥٢١⦘ عبد اللَّه (ابن) (٢) الشخير عن معقل بن يسار قال: لأن يعمد (أحدكم) (٣) إلى مخيط فيغرز به في رأسي أحب إليّ من أن تغسل رأسي امرأة ليست مني ذات محرم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معقل بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تم میں کوئی شخص ایک سوئی پوری میرے سر میں چبھو دے یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ کوئی غیر محرم عورت میرے سر کو دھوئے۔
حدیث نمبر: 18212
١٨٢١٢ - حدثنا أبو داود عن شعبة قال: سمعت (قتادة) (١) يقول: سافرت مع امرأة إلى مكة، (نصف) (٢) وإن فيها (لبقية) (٣) فكانت تغسل رأسي أو تفلي رأسي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قتادہ رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے ایک عورت کے ساتھ مکہ تک کا سفر کیا، وہ میرا سر دھویا کرتی تھی یا فرمایا کہ وہ میری چٹیاں بنایا کرتی تھی۔
حدیث نمبر: 18213
١٨٢١٣ - حدثنا عبيد اللَّه عن سفيان عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب عن أبي موسى قال: أتيت امرأة من قومي فغسلت ثيابي (و) (١) مشطت رأسي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا اس نے میرے کپڑے دھوئے اور میرے سر میں کنگھی کی۔