حدیث نمبر: 18182
١٨١٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) ابن عيينة عن عمرو عن محمد بن علي قال: كان الحسن والحسين لا يريان أمهات المؤمنين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ ما امہات المومنین g کو نہیں دیکھا کرتے تھے، جبکہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان کے لئے امہات المؤمنین کودیکھناجائز سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 18183
١٨١٨٣ - وكان ابن عباس يرى أن (رؤيتهن) (١) لهما حل (٢).
حدیث نمبر: 18184
١٨١٨٤ - حدثنا ابن علية عن أيوب قال: قلت لسعيد بن جبير: أيرى الرجل رأس (ختنته) (١) قال: فتلا علي الآية: ﴿وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ ⦗٥١٥⦘ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ﴾ [النور: ٣١] الآية، (قال) (٢): أراها فيهن (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایوب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ کیا آدمی اپنی ساس کے سر کو دیکھ سکتا ہے تو انہوں نے جواب میں یہ آیت پڑھی : وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں سوائے اپنے شوہروں کے، اپنے سسروں کے، اپنے بیٹوں کے، اپنے خاوند کے بیٹوں کے، اپنے بھائیوں کے، اپنے بھائیوں کے بیٹوں کے، یا اپنی بہنوں کے بیٹوں کے۔ پھر فرمایا کہ کیا تو اسے ان میں دیکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 18185
١٨١٨٥ - حدثنا عفان قال: نا حماد بن سلمة قال: (نا) (١) داود عن الشعبي (و) (٢) عكرمة في هذه: ﴿وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ﴾ حتى فرغ منها (قالا) (٣): لم يذكر العم والخال لأنهما (ينعتان) (٤) لأبنائهما (وقالا) (٥): لا (تضع) (٦) خمارها (عند) (٧) العم والخال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اور حضرت عکرمہ d قرآن مجید کی آیت { وَلاَ یُبْدِینَ زِینَتَہُنَّ إلاَّ لِبُعُولَتِہِنَّ ، أَوْ آبَائِہِنَّ ، أَوْ آبَائِ بُعُولَتِہِنَّ } (الی آخر الآیۃ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس میں چچا اور ماموں کا تذکرہ نہیں ہے، اس لئے کہ یہ دونوں اپنے بیٹوں کے تذکرے میں آگئے، اور فرمایا کہ عورت چچا اور ماموں کے سامنے اپنا دوپٹہ نہ اتارے۔