کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ماں کے بالوں کو دیکھنا، ان میں کنگھی کرنا اور چٹیاں بنانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 18174
١٨١٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) معتمر عن أبيه عن مورق أنه كان يفلي أمه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مورق رحمہ اللہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اپنی والدہ کی چٹیاں کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 18175
١٨١٧٥ - حدثنا معتمر عن أبيه أن (طلقًا) (١) كان يذوّب أمه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلق رحمہ اللہ اپنی والدہ کی چٹیاں کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 18176
١٨١٧٦ - [حدثنا وكيع عن شريك عن رجل عن الضحاك أنه كان يمشط أمه] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ اپنی والدہ کی کنگھی کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 18177
١٨١٧٧ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر أنه قال: لا بأس أن ينظر إلى شعر أمه، وإن (تستتر) (١) أحب إلي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ والدہ کے بال دیکھنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر بالوں کو چھپایاجائے تو زیادہ بہت رہے۔
حدیث نمبر: 18178
١٨١٧٨ - حدثنا يعلى عن سفيان عن مزاحم بن (زفر) (١) عن الضحاك قال: (لو) (٢) دخلت على أمي (لقلت) (٣): (أيتها) (٤) العجوز غطي رأسك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ بہتر ہے کہ جب میں اپنی ماں کے پاس جاؤ ں تو کہوں اے اماں ! سر ڈھانپ لے۔
حدیث نمبر: 18179
١٨١٧٩ - حدثنا عبد الرحيم عن سفيان عن سالم بن أبي حفصة عن منذر عن ابن الحنفية أنه كان يذوّب أمه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن الحنفیہ رحمہ اللہ اپنی والدہ کی چٹیاں کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 18180
١٨١٨٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مزاحم عن الضحاك قال: لو دخلت على (أمي) (١) لقلت: غطي (شعرك) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بہتر ہے کہ جب میں اپنی ماں کے پاس جاؤ ں تو کہوں اے اماں ! سر ڈھانپ لے۔