حدیث نمبر: 18168
١٨١٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) جرير عن مغيرة عن الشعبي أنه كره أن يسف الرجل النظر إلى أخته (أو) (٢) ابنته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی کا اپنی بہن یابیٹی کے بالوں کو مستقل طور پر دیکھنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 18169
١٨١٦٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ليث عن طاوس أنه كره أن ينظر (١) إلى شعر ابنته أو أخته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ کے نزدیک آدمی کا اپنی بیٹی یا بہن کے بالوں کودیکھنامکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 18170
١٨١٧٠ - حدثنا يعلى (بن) (١) عبيد عن عبد الملك عن عطاء في الرجل يرى من النساء -ما يحرم عليه نكاحه- رؤوسهن: (يستترن) (٢) أحب إلي (وإن) (٣) رأى فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جن عورتوں سے آدمی کا نکاح حرام ہے ان کے سروں کا پردہ کرنا میرے نزدیک اچھا ہے۔ البتہ آدمی کی نگاہ اگر پڑجائے تو کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 18171
١٨١٧١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي (البختري) (١) عن أبي صالح أن الحسن والحسين كانا يدخلان (على أختهما) (٢) أم كلثوم وهي (تمتشط) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ ما اپنی بہن حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے پاس اس وقت چلے جایا کرتے تھے جب وہ کنگھی کررہی ہوتی تھیں۔
حدیث نمبر: 18172
١٨١٧٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن في المرأة تضع خمارها عند أخيها قال: واللَّه، ما لها ذاك.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ کیا عورت اپنے بھائی کے سامنے اپنا دوپٹہ اتار سکتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! وہ ایسا نہیں کرسکتی۔
حدیث نمبر: 18173
١٨١٧٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عامر أنه كره أن ينظر إلى شعر كل ذي محرم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر ذی محرم عورت کے بال دیکھنا بھی مکروہ ہے۔