حدیث نمبر: 18161
١٨١٦١ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) شريك عن السدي عن أبي مالك عن ابن عباس قال: لا بأس أن ينظر المملوك إلى شعر مولاته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غلام اپنی مالکن کے بال دیکھ سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 18162
١٨١٦٢ - حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن الشعبي أنه كان لا يرى بأسًا أن تضع المرأة ثوبها عند مملوكها، وإن (كان يكره) (١) أن يرى شعرها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ اس بات کو جائزسمجھتے تھے کہ عورت اپنے کپڑے اپنے غلام کے پاس رکھوائے، لیکن اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ غلام اپنی مالکن کے بال دیکھے۔
حدیث نمبر: 18163
١٨١٦٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ليث عن مجاهد وعطاء أنهما كرها أن يرى (العبد) (١) شعر مولاته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ اور حضرت عطاء رحمہ اللہ اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ غلام اپنی مالکن کے بال دیکھے۔
حدیث نمبر: 18164
١٨١٦٤ - حدثنا محمد (بن) (١) يزيد عن عبيدة عن إبراهيم قال: تستتر المرأة (عن) (٢) غلامها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت اپنے غلام سے پردہ کرے گی۔
حدیث نمبر: 18165
١٨١٦٥ - حدثنا أبو أسامة عن يونس بن أبي إسحاق عن طارق عن سعيد بن المسيب قال: لا تغرنكم هذه الآية: ﴿إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ (١)، إنما عنى بها الإماء ولم يعن بها (العبيد) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تمہیں قرآن مجید کی اس آیت سے دھوکہ نہ ہو {إلاَّ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ } اس سے مراد باندیاں ہیں غلام نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 18166
١٨١٦٦ - حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن أنه كره أن يدخل المملوك على مولاته بغير إذنها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام اپنی مالکن کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوسکتا۔
حدیث نمبر: 18167
١٨١٦٧ - حدثنا ابن يمان عن سفيان عن (جويبر) (١) عن الضحاك أنه كره أن ينظر المملوك إلى شعر مولاته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ اس بات کو درست نہیں سمجھتے کہ غلام اپنے مالکن کے بال دیکھے۔